🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب اليمين الغموس:
باب: قسموں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6675
وَلا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا صَدَدْتُمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النحل آية 94 دَخَلًا مَكْرًا وَخِيَانَةً.
‏‏‏‏ اور اللہ نے (سورۃ النحل میں) فرمایا «ولا تتخذوا أيمانكم دخلا بينكم فتزل قدم بعد ثبوتها وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبيل الله ولكم عذاب عظيم‏» کہ اپنی قسموں کو آپس میں فساد کی بنیاد نہ بناؤ اس لیے کہ اسلام پر لوگوں کا قدم جمے اور پھر اکھڑ جائے اور اللہ کی راہ سے روکنے کے بدلے تم کو دوزخ کا عذاب چکھنا پڑے، تم کو سخت سزا دی جائے۔ اس آیت میں جو «دخلا» کا لفظ ہے اس کے معنی دغا اور فریب کے ہیں۔ «غمس» کے معنی ڈبو دینا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: Q6675]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6675
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، کہا ہم سے فراس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا اور «يمين الغموس‏"‏‏.‏» قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6675]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥فراس بن يحيى الهمداني، أبو يحيى
Newفراس بن يحيى الهمداني ← عامر الشعبي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← فراس بن يحيى الهمداني
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن مقاتل المروزي، أبو الحسن
Newمحمد بن مقاتل المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6920
الإشراك بالله عقوق الوالدين اليمين الغموس ما اليمين الغموس قال الذي يقتطع مال امرئ مسلم هو فيها كاذب
صحيح البخاري
6870
الإشراك بالله عقوق الوالدين اليمين الغموس
صحيح البخاري
6675
الإشراك بالله عقوق الوالدين قتل النفس اليمين الغموس
جامع الترمذي
3021
الإشراك بالله عقوق الوالدين اليمين الغموس
سنن النسائى الصغرى
4016
الإشراك بالله عقوق الوالدين قتل النفس اليمين الغموس
سنن النسائى الصغرى
4872
الإشراك بالله عقوق الوالدين قتل النفس اليمين الغموس
مشكوة المصابيح
50
الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس
بلوغ المرام
1176
اليمين الغموس
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6675 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6675
حدیث حاشیہ:
كبائر، كبيرة کی جمع ہے۔
مذکورہ حدیث میں چار کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ بعض روایات میں سات اور بعض میں دس بیان ہوئے ہیں۔
یہ تضاد نہیں کیونکہ ایک عدد کا ذکر دوسرے عدد کے منافی نہیں ہوتا۔
(2)
واضح رہے کہ اس قسم میں کفارہ نہیں ہوتا، صرف اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کیا جائے۔
اگر کسی کا حق مارا ہے تو وہ واپس کیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم یمین غموس کو ایسا گناہ شمار کرتے تھے جو کفارے سے بھی نہیں دھل سکتا۔
یمین غموس یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے۔
اس امر میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی۔
(فتح الباري: 679/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6675]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4016
کبائر (کبیرہ گناہوں) کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبائر (بڑے گناہ) یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) خون کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4016]
اردو حاشہ:
جھوٹی قسم کھانا عربی میں اس کے لیے لفظ الیمین الغموس استعمال کیا گیا ہے، یعنی گناہ میں ڈبو دینے والی قسم یا آگ میں داخل کرنے والی قسم۔ جس قسم کھانے کا یہ انجام ہو ظاہر ہے کہ وہ قسم جھوٹی ہی ہو سکتی ہے اور یہ وہ قسم ہوتی ہے جس سے کسی کا مال ناحق حاصل کیا جائے، یا کسی کو ناحق نقصان پہنچایا جائے یا اس کے ذریعے سے کسی کو ناجائز فائدہ پہنچایا جائے وغیرہ۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4016]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4872
قصاص سے متعلق مجتبیٰ (سنن صغریٰ) کی بعض وہ احادیث جو سنن کبریٰ میں نہیں ہیں آیت کریمہ: جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے (النساء: ۹۳) کی تفسیر۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4872]
اردو حاشہ:
جھوٹی قسم عربی میں یَمِین غَمُوس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی ایسی قسم جو قسم کھانے والے کو گناہ میں ڈبو دے۔ ظاہر ہے وہ جھوٹی ہی ہوگی جس کے ساتھ کسی کا مال ناحق حاصل کیا گیا ہو۔ قیامت کے دن ایسی قسم آگ ہی میں ڈبوئے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4872]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6870
6870. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بڑے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی جو شریک بنانا، والدین کی نافرمانی کرنا۔ یا فرمایا: جھوٹی قسم اٹھانا راوی حدیث شعبہ نے شک کیا ہے۔ معاذ نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا: کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ کا شریک بنانا، جھوٹی قسم اٹھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ یا فرمایا: کسی کی ناحق جان لینا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6870]
حدیث حاشیہ:
یہ سارے کبیرے گناہ ہیں جن سے توبہ کیے بغیر مر جانا دوزخ میں داخل ہونا ہے۔
باب اور احادیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6870]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6920
6920. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے انہوں نےکہا: ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کا شریک بنانا اس نے پوچھا: اس کے بعد کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: والدین کی نافرمانی کرنا۔ اس نے دریافت کیا، پھر کون سے ہے؟ آپ نے فرمایا: جھوٹی قسم اٹھانا میں نے پوچھا: یمین غموس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جان بوجھ کر اس کے ذریعے سے کسی کا مال ہتھیا لے، حالانکہ وہ اس (قسم) میں جھوٹا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6920]
حدیث حاشیہ:
(1)
اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کو گندگی سے تشبیہ دی ہے، فرمایا:
بتوں کی گندگی سے بچو۔
(الحج22: 31)
یعنی آستانوں کی آلائش اور بتوں کی پرستش سے اس طرح بچو جیسے انسان گندگی کے ڈھیر سے بچتا ہے، اور اس گندگی کے قریب جانے سے بھی گھن آتی ہے۔
ایک مقام پر شرک کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرے، پھر اسے پرندے اچک لیں جائیں یا ہوا، اسے کسی دور دراز مقام پر لے جا کر پھینک دے۔
(الحج22: 31) (2)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اب اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے آگے جھکے تو گویا ایک بلند تر مخلوق کمتر مخلوق کے سامنے جھک گئی اور جس نے شرک کیا گویا وہ توحید کی بلندیوں سے نیچے گر گیا، اب اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں رہی، اب وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے یا اپنے جیسے مشرکین کے پیچھے لڑھکتا ہے گا جو اسے کبھی کسی در پرجانے کا مشورہ دیں گے، کبھی دوسرے کے آستانے پر جانے کا کہیں گے حتی کہ یہ شکاری پرندے اسے مکمل طور پر گمراہ اور بے ایمان کر کے ہی چھوڑیں گے۔
أعاذنا الله منه
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6920]