🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب إذا حنث ناسيا فى الأيمان:
باب: اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6674
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدَبًا، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ ذَبَحَ فَلْيُبَدِّلْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے اسود بن قیس نے کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 6674]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جندب بن كعب الأزدي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس
Newالأسود بن قيس العبدي ← جندب بن كعب الأزدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الأسود بن قيس العبدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6674
من ذبح فليبدل مكانها ومن لم يكن ذبح فليذبح باسم الله
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6674 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6674
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ قربانی کا جانور نماز عید پڑھ کر ہی ذبح کرنا چاہیے ورنہ وہ بجائے قربانی کے معمولی ذبیحہ ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6674]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6674
حدیث حاشیہ:
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ ایک ہی مکان میں رہتے تھے، اس بنا پر مذکورہ واقعے کی نسبت کبھی تو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف کی ہے اور کبھی وہ یہ واقعہ اپنے ماموں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔
ان احادیث کی عنوان سے اس طرح مناسبت ہے کہ ذبح کے وقت حقیقت سے جاہل انسان بھولنے والے کی طرح ہے، اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، اسی طرح قسم کے متعلق بھی بھولنے والا قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6674]