🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب إثم من تبرأ من مواليه:
باب: جو غلام اپنے اصلی مالکوں کو چھوڑ جائے اس کا گناہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6755
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ غَيْرَ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: فَأَخْرَجَهَا فَإِذَا فِيهَا أَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ وَأَسْنَانِ الْإِبِلِ، قَالَ: وَفِيهَا الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں (کے قصاص) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ (قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6755]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے علاوہ اور کوئی نوشتہ نہیں جسے ہم پڑھتے ہوں۔ ہاں یہ ایک صحیفہ نکالا تو اس میں زخمیوں کے قصاص اور اونٹوں کی زکاۃ کے مسائل تھے۔ اس میں یہ بھی تھا: مدینہ عیر پہاڑ سے ثور تک حرم ہے۔ اس میں جس نے کسی بدعت کو ایجاد کیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نفل یا فرض قبول نہیں کیا جائے گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے موالات قائم کر لی، اس پر اللہ کی لعنت، نیز فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نفل یا فرض قبول نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کا عہد ذمہ ایک ہی ہے۔ ادنیٰ مسلمان بھی اس کی تکمیل میں کوشش کرے۔ جس نے مسلمانوں کے عہد کو پامال کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل فرض یا نفل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6755]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥يزيد بن شريك التيمي، أبو إبراهيم
Newيزيد بن شريك التيمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن يزيد التيمي، أبو أسماء
Newإبراهيم بن يزيد التيمي ← يزيد بن شريك التيمي
ثقة يرسل
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم بن يزيد التيمي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة ثبت
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6755 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6755
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں اجازت کے بغیر کے الفاظ محض اتفاقی ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اگر آقا اپنے غلام کو کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنے کی اجازت دے دے تو ایسا کرنا جائز ہے اگر چہ حضرت عطاء بن ابی رباح نے اسے جائز قرار دیا ہے ہے لیکن ایسا کرنا شارع کی منشا کے خلاف ہے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو،(الأنعام6: 151)
اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ اگر مفلسی کا اندیشہ نہ ہوتو پھر اولاد کا قتل کرنا جائز ہے۔
اس کی اجازت سے دوسروں کی مدد تو کی جا سکتی ہے لیکن اپنا حق وراثت منتقل نہیں کیا جا سکتا ہے جس کی وضاحت آئندہ حدیث میں بیان کی گئی ہے۔
واللہ أعلم. (فتح الباري: 52/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6755]

Sahih Bukhari Hadith 6755 in Urdu