🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب قذف العبيد:
باب: غلاموں پر ناحق تہمت لگانا بڑا گناہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6858
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ، وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ، جُلِدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے فضیل بن غزوان نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ غلام اس تہمت سے بَری تھا تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے، سوا اس کے کہ اس کی بات صحیح ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6858]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي، أبو الحكم
Newعبد الرحمن بن أبي نعم البجلي ← أبو هريرة الدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضيل بن غزوان الضبي، أبو الفضل
Newالفضيل بن غزوان الضبي ← عبد الرحمن بن أبي نعم البجلي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← الفضيل بن غزوان الضبي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6858
من قذف مملوكه وهو بريء مما قال جلد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال
صحيح مسلم
4311
من قذف مملوكه بالزنا يقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال
جامع الترمذي
1947
من قذف مملوكه بريئا مما قال له أقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال
سنن أبي داود
5165
من قذف مملوكه وهو بريء مما قال جلد له يوم القيامة حدا
المعجم الصغير للطبراني
919
من قذف مملوكه بالزنا أقيم عليه الحد يوم القيامة
بلوغ المرام
1052
من قذف مملوكه يقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6858 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6858
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے:
جمہور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ آزاد آدمی جب غلام پر تہمت لگائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے کہ تہمت لگانے والے کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور کوڑے مارے جائیں گے۔
اگر دنیا میں اس پر حد لاگو ہوتی تو حدیث میں اس کا ضرور ذکر کیا جاتا جیسا کہ آخرت کی سزا کا ذکر ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے کیونکہ حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام ولد پر تہمت لگانے پر حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔
(فتح الباري: 229/12)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6858]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1052
تہمت زنا کی حد کا بیان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے (یعنی وہ تہمت سچی ہو)۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1052»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحدود، باب قذف العبيد، حديث:6858، ومسلم، الأيمان، باب التغليظ علي من قذف مملوكه بالزني، حديث:1660.»
تشریح:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو مالک اپنے غلام پر تہمت لگاتا ہے تو دنیا میں اس پر کوئی حد نہیں ہے‘ اسے قیامت کے روز اللہ رب العالمین ہی سزا دے گا۔
اور اگر تہمت سچی ہوگی تو پھر مالک بری ٔالذمہ ہوگا اور غلام کو جرم کی سزا دی جائے گی۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1052]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5165
غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت نبي التوبة ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس اُمت کی توبہ ندامت اور الفاظ سے قبول کرلی جاتی ہے۔
جبکہ سابقہ امتوں میں بعض اوقات اپنے آپ کو قتل کرنے سے قبول ہوتی تھی۔
ایک معنی یہ بھی لکھے گئے ہیں۔
کہ اس سے مراد ایمان وعمل ہے۔
جبکہ انسان نے کفر وفسق سے رجوع کیا ہو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5165]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1947
خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ۱؎ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1947]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سومرتبہ استغفار کرتے تھے،
اسی لحاظ سے آپ کو نبي التوبة کہاگیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1947]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4311
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام پر زنا کا الزام عائد کیا، اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی، الا یہ کہ اس نے جو کچھ کہا، ویسا ہی تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4311]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر کوئی آقا اپنے غلام پر زنا کی تہمت عائد کرتا ہے،
حالانکہ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے،
تو اس کی آزادی کے شرف و احترام کی خاطر،
بالاتفاق دنیا میں اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی،
چاہے وہ مکمل طور پر غلام ہو یا مکاتب،
مدبر اور ام الولد ہو،
ہاں قیامت کے دن،
وہ حد کا مستوجب ہو گا،
لیکن اگر دوسرے کی ام الولد پر تہمت لگاتا ہے،
تو پھر حضرت ابن عمر،
حسن بصری،
اور اہل ظاہر کے نزدیک اس پر حد قائم کی جائے،
اگر اپنی ام ولد پر تہمت لگاتا ہے،
تو پھر حسن بصری کا موقف بھی یہی ہے کہ اس پر حد نہیں،
اس طرح دوسرے کے غلام پر الزام تراشی میں بھی حد نہیں ہے،
تعزیر و توبیخ ہے،
آخرت میں مؤاخذہ ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4311]