صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب الأخذ على اليمين فى النوم:
باب: خواب میں دائیں طرف لے جاتے دیکھنا۔
حدیث نمبر: 7030
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" كُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ مَنْ رَأَى مَنَامًا قَصَّهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ لِي عِنْدكَ خَيْرٌ فَأَرِنِي مَنَامًا يُعَبِّرُهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنِمْتُ، فَرَأَيْتُ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي فَانْطَلَقَا بِي فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، فَقَالَ لِي: لَنْ تُرَاعَ، إِنَّكَ رَجُلٌ صَالِحٌ، فَانْطَلَقَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُ بَعْضَهُمْ، فَأَخَذَا بِي ذَاتَ الْيَمِينِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان غیر شادی شدہ تھا تو مسجد نبوی میں سوتا تھا اور جو شخص بھی خواب دیکھتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کرتا۔ میں نے سوچا: اے اللہ! اگر تیرے نزدیک مجھ میں کوئی خیر ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا جس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تعبیر دیں۔ پھر میں سویا اور میں نے دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے۔ پھر ان دونوں سے تیسرا فرشتہ بھی آ ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ ڈرو نہیں تم نیک آدمی ہو۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے جہنم کی طرف لے گئے تو وہ کنویں کی طرح تہ بتہ تھی اور اس میں کچھ لوگ تھے جن میں سے بعض کو میں نے پہچانا بھی، پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے چلے، جب صبح ہوئی تو میں نے اس تذکرہ اپنی بہن حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7030]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کنوارہ نوجوان تھا۔ رات کو مسجد میں سوتا تھا۔ جو شخص بھی کوئی خواب دیکھتا وہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا تھا۔ میں نے ایک دن اپنے دل میں کہا: اے اللہ! اگر تیرے ہاں میری کوئی بھلائی ہے تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر کریں، چنانچہ میں سویا تو میں نے خواب میں دو فرشتے دیکھے جو میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے، ان دونوں میں سے ایک تیسرا فرشتہ بھی آ ملا اور اس نے مجھ سے کہا: مت گھبراؤ، تم نیک آدمی ہو، بہرحال وہ مجھے دوزخ کی طرف لے گئے۔ اس کی کنویں کی طرح منڈیر بنی ہوئی تھی۔ میں نے اس میں کچھ لوگوں کو دیکھا۔ ان میں سے بعض کو پہچانتا ہوں۔ پھر وہ دونوں فرشتے مجھے دائیں طرف لے گئے۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا ذکر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التعبير/حدیث: 7030]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 7030 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي