صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: من حمل علينا السلاح فليس منا :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا ”جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 7072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ".
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن رافع) نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہمام نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7072]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7072
| لا يشير أحدكم على أخيه بالسلاح فإنه لا يدري لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار |
صحيح مسلم |
6668
| لا يشير أحدكم إلى أخيه بالسلاح فإنه لا يدري أحدكم لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار |
صحيفة همام بن منبه |
100
| لا يشير أحدكم إلى أخيه بالسلاح فإنه لا يدري أحدكم لعل الشيطان أن ينزع في يده فيقع في حفرة من النار |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7072 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7072
حدیث حاشیہ:
اس طرح کہ دنیا سے دین کے عالم گزر جائیں گے اور جو لوگ باقی رہیں گے وہ ہمہ تن دنیا کے کمانے میں غرق ہوں گے‘ ان کو دینی علوم کا بالکل شوق ہی نہیں رہے گا۔
ہمارے زمانہ میں یہ آثار شروع ہو گئے ہیں۔
ہزار ہا لکھو کھ ہا مسلمان اپنے بچوں کو صرف انگریزی تعلیم دلاتے ہیں‘ قرآن وحدیث سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں إلا ما شا ءاللہ۔
کچھ کچھ جو دین کے عالم رہ گئے ہیں‘ قیامت کے قریب یہ بھی نہ رہیں گے۔
علم دین کو محض بے کار سمجھ کر اس کی تحصیل چھوڑ دیں گے‘ کیونکہ اچھے لوگ قیامت سے پہلے اٹھ جائیں گے۔
جیسے امام مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو حریر سے زیادہ ملائم ہوگی اس کے لگتے ہی جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہو گا وہ اٹھ جائے گا۔
دوسری حدیث میں ہے قیامت تب تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جائے گا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا تو اس سے یہ نکلتا ہے کہ قیامت اچھے لوگوں پر بھی قائم ہوگی کیونکہ اس حدیث میں قیامت تک سے مراد ہے کہ اس ہوا چلنے تک جس کے لگتے ہی ہر ایک مومن مر جائے گا اور کفارہ ہی دنیا میں رہ جائیں گے انہی پر قیامت آئے گی قسطلانی۔
اس طرح کہ دنیا سے دین کے عالم گزر جائیں گے اور جو لوگ باقی رہیں گے وہ ہمہ تن دنیا کے کمانے میں غرق ہوں گے‘ ان کو دینی علوم کا بالکل شوق ہی نہیں رہے گا۔
ہمارے زمانہ میں یہ آثار شروع ہو گئے ہیں۔
ہزار ہا لکھو کھ ہا مسلمان اپنے بچوں کو صرف انگریزی تعلیم دلاتے ہیں‘ قرآن وحدیث سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں إلا ما شا ءاللہ۔
کچھ کچھ جو دین کے عالم رہ گئے ہیں‘ قیامت کے قریب یہ بھی نہ رہیں گے۔
علم دین کو محض بے کار سمجھ کر اس کی تحصیل چھوڑ دیں گے‘ کیونکہ اچھے لوگ قیامت سے پہلے اٹھ جائیں گے۔
جیسے امام مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو حریر سے زیادہ ملائم ہوگی اس کے لگتے ہی جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہو گا وہ اٹھ جائے گا۔
دوسری حدیث میں ہے قیامت تب تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جائے گا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا تو اس سے یہ نکلتا ہے کہ قیامت اچھے لوگوں پر بھی قائم ہوگی کیونکہ اس حدیث میں قیامت تک سے مراد ہے کہ اس ہوا چلنے تک جس کے لگتے ہی ہر ایک مومن مر جائے گا اور کفارہ ہی دنیا میں رہ جائیں گے انہی پر قیامت آئے گی قسطلانی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7072]
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي