🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب خروج النار:
باب: قرب قیامت آگ کا نکلنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7118
وَقَالَ أَنَسٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ نَارٌ تَحْشُرُ النَّاسَ مِنَ الْمَشْرِقِ إِلَى الْمَغْرِبِ
‏‏‏‏ اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کی پہلی علامتوں میں سے ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: Q7118]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7118
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں زہری نے خبر دی کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ سر زمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی اور بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7118]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7118
تخرج نار من أرض الحجاز تضيء أعناق الإبل ببصرى
صحيح مسلم
7289
تخرج نار من أرض الحجاز تضيء أعناق الإبل ببصرى
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7118 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7118
حدیث حاشیہ:
یہ آگ نکل چکی ہے جس کی تفصیل حضرت نواب صدیق حسن خاں مرحوم نے اپنی کتاب اقتراب الساعۃ میں لکھی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7118]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7118
حدیث حاشیہ:

علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حدیث میں مذکورہ آگ کا ظہور ہو چکا ہے۔
654 ہجری میں سرزمین حجاز سے آگ نکلی تھی جس کا آغاز ایک زلزلے سے ہوا تھا۔
اس آگ کے شعلے بلند ہوئے اور پھر وہ خود بخود ختم ہوگئی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ وہی آگ ہے جو حشر کے لیے لوگوں کو ہانک لے جائے گی لیکن حدیث سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی کہ یہ حشر کی آگ ہے بلکہ اس سے مراد قیامت کی ایک نشانی ہے اور جو آگ لوگوں کو ہانک کر لےجائے گی، اس کے فوراً بعد قیامت آجائے گی جیسا کہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
لوگوں کوآگ ہانک کرلے جائے گی اور وہ دن رات ان کے ساتھ رہے گی۔
(صحیح البخاري الرقاق، حدیث: 6522)
بہرحال یہ دو قسم کی آگ ہے:
ایک تو قیامت کی نشانی ہے اور دوسری قیامت کا آغاز ہوگا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7118]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7289
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک سر زمین حجاز سے ایسی آگ نہ نکلے،جس سے بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں چمک اٹھیں گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7289]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بصریٰ شام کا ایک معروف شہر ہے،
تین جمادی الاخریٰ(654)
بروز منگل صبح کی نماز کے بعد مدینہ منورہ سے بہت بڑی آگ ظاہر ہوئی تھی،
جس کی روشنی سے بصری کے اونٹوں کے گرد نیں روشن ہوگئی تھیں،
(تفصیل کے لیے دیکھئے البدایہ والنہایہ ج(13)
ص 187۔
دیکھئے تکملہ ج 2 ص 310 تا 312 منتہ المنھم 4 ص 356)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7289]