علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب خروج النار:
باب: قرب قیامت آگ کا نکلنا۔
حدیث نمبر: 7119
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا"،
ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا حفص بن عاصم نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7119]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7119
| يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا |
صحيح مسلم |
7275
| يحسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون ويقول كل رجل منهم لعلي أكون أنا الذي أنجو |
صحيح مسلم |
7275
| يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا |
صحيح مسلم |
7276
| يحسر عن جبل من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا |
جامع الترمذي |
2569
| يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا |
سنن أبي داود |
4313
| يحسر عن كنز من ذهب فمن حضره فلا يأخذ منه شيئا |
سنن ابن ماجه |
4046
| يحسر الفرات عن جبل من ذهب فيقتتل الناس عليه فيقتل من كل عشرة تسعة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7119 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7119
حدیث حاشیہ:
تو خزانے کے بدل پہاڑ کا لفظ ہے۔
تو خزانے کے بدل پہاڑ کا لفظ ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7119]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7119
حدیث حاشیہ:
1۔
کچھ لوگوں نے سونے سے تیل یا پٹرول کا کنواں مراد لیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث سونے کے پہاڑ کی صریح نص ہے جبکہ پٹرول میں سونا نہیں بلکہ سونا ایک معدن کا نام ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”عنقریب زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑے نکال باہر پھینکے گی جیسے سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ستون ہوتے ہیں۔
قاتل آئے گا اور کہے گا:
میں نے اس کے لیے قتل کیا، رشتہ داری توڑنے والا آئے گا اور کہے گا:
میں نے اس کے لیے رشتوں کوتوڑا، چور آئے گا اور کہے گا:
اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر سب کے سب اس کو چھوڑیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
“ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
2۔
اس خزانے سے کچھ نہ لینے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وہاں قتل وغارت کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
جب لوگ سنیں گے تو اس کی طرف چل دیں گے اور جو لوگ وہاں موجود ہوں گے وہ کہیں گے:
اگر ہم نے انھیں اس پہاڑ سے لینے دیا تو یہ سارا سونا لے جائیں گے۔
آخر کار جنگ ہوگی اور نناوے فیصد لوگ مارے جائیں گے۔
“ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
1۔
کچھ لوگوں نے سونے سے تیل یا پٹرول کا کنواں مراد لیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث سونے کے پہاڑ کی صریح نص ہے جبکہ پٹرول میں سونا نہیں بلکہ سونا ایک معدن کا نام ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”عنقریب زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑے نکال باہر پھینکے گی جیسے سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ستون ہوتے ہیں۔
قاتل آئے گا اور کہے گا:
میں نے اس کے لیے قتل کیا، رشتہ داری توڑنے والا آئے گا اور کہے گا:
میں نے اس کے لیے رشتوں کوتوڑا، چور آئے گا اور کہے گا:
اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر سب کے سب اس کو چھوڑیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
“ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
2۔
اس خزانے سے کچھ نہ لینے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وہاں قتل وغارت کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
جب لوگ سنیں گے تو اس کی طرف چل دیں گے اور جو لوگ وہاں موجود ہوں گے وہ کہیں گے:
اگر ہم نے انھیں اس پہاڑ سے لینے دیا تو یہ سارا سونا لے جائیں گے۔
آخر کار جنگ ہوگی اور نناوے فیصد لوگ مارے جائیں گے۔
“ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7119]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4046
قیامت کی نشانیوں کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4046]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4046]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے شاذ ہونے کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے ایک جملے کے سوا باقی روایت کو حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی اور دکتور بشار عواد اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت (مِنْ كُلِّ عَشرَة تِسْعَة)
دس میں سے نو افراد۔
والے کے جملے کے علاوہ حسن صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ جملہ شاذ ہے جبکہ محفوظ الفاظ (مِنْ كُلِّ مِائَةٌ تِسْعَة وَّ تِسْعُوْن)
ہر سو میں سے نناوے ہیں۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی اس جملے کو شاذ قراردیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت اس جملے کے سوا حسن بن جاتی ہے۔
والله اعلم، دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجة للألباني، رقم:
3286 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4046)
(2)
دریائے فرات ترکی سے شروع ہوکرشام عراق میں سے گزرتا ہوا خلیج فارس میں گرتا ہے۔
ترکی کا وہ حصہ بھی اس سے سیراب ہوتا ہے جہاں کردستان کے نام سے الگ ملک بنانے کی تحریک چل رہی ہے۔
اور عراق کا وہ حصہ جہاں یہ سمندر میں گرتا ہے۔
ایران اور کویت دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔
اس لیے اس علاقے میں معدنی دولت کا خزانہ ظاہر ہونے پر علاقے کے ممالک میں جنگ کا چھڑنا ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی علاقے کے ممالک کی سلامتی اور تحفظ کے نام پر بڑے ملک (امریکہ، روس اور چین وغیرہ)
بھی اس دولت پر قبضہ جمانے کے لیے شریک ہوسکتے ہیں۔
(3)
اس واقعہ کی پیشگی خبر دینے میں یہ حکمت ہے کہ سمجھ دار آدمی دولت کا لالچ نہ کریں اور جنگ میں شریک ہوکر جانیں نہ گنوائیں باالخصوص یہ جنگ اتنی شدید اور خطرناک ہوگی کہ ننانوے فیصد لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فی صد جنگجو زندہ بچیں گے۔
ان کا حال بھی زخموں اور بیماریوں کی وجہ سے قابل رشک نہیں ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے شاذ ہونے کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے ایک جملے کے سوا باقی روایت کو حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی اور دکتور بشار عواد اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت (مِنْ كُلِّ عَشرَة تِسْعَة)
دس میں سے نو افراد۔
والے کے جملے کے علاوہ حسن صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ جملہ شاذ ہے جبکہ محفوظ الفاظ (مِنْ كُلِّ مِائَةٌ تِسْعَة وَّ تِسْعُوْن)
ہر سو میں سے نناوے ہیں۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی اس جملے کو شاذ قراردیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت اس جملے کے سوا حسن بن جاتی ہے۔
والله اعلم، دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجة للألباني، رقم:
3286 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4046)
(2)
دریائے فرات ترکی سے شروع ہوکرشام عراق میں سے گزرتا ہوا خلیج فارس میں گرتا ہے۔
ترکی کا وہ حصہ بھی اس سے سیراب ہوتا ہے جہاں کردستان کے نام سے الگ ملک بنانے کی تحریک چل رہی ہے۔
اور عراق کا وہ حصہ جہاں یہ سمندر میں گرتا ہے۔
ایران اور کویت دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔
اس لیے اس علاقے میں معدنی دولت کا خزانہ ظاہر ہونے پر علاقے کے ممالک میں جنگ کا چھڑنا ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی علاقے کے ممالک کی سلامتی اور تحفظ کے نام پر بڑے ملک (امریکہ، روس اور چین وغیرہ)
بھی اس دولت پر قبضہ جمانے کے لیے شریک ہوسکتے ہیں۔
(3)
اس واقعہ کی پیشگی خبر دینے میں یہ حکمت ہے کہ سمجھ دار آدمی دولت کا لالچ نہ کریں اور جنگ میں شریک ہوکر جانیں نہ گنوائیں باالخصوص یہ جنگ اتنی شدید اور خطرناک ہوگی کہ ننانوے فیصد لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فی صد جنگجو زندہ بچیں گے۔
ان کا حال بھی زخموں اور بیماریوں کی وجہ سے قابل رشک نہیں ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4046]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2569
باب:۔۔۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2569]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2569]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎:
اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
وضاحت: 1 ؎:
اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2569]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7276
عبد اللہ بن حارث بن نوفل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا تو انھوں نے کہا لوگوں کی گردنیں دنیا کی طلب میں ہمیشہ مختلف رہیں گی، میں نے کہا، ہاں،حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"قریب ہے فرات سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہو جائے گا سو لوگ جب یہ بات سنیں گے، اس کی طرف چل پڑیں گے،پہاڑ کے قریب کے لوگ کہیں گے اگر ہم لوگوں کو اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7276]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
اجم،
قلعہ،
جمع آجام ہے۔
(2)
اعناق،
عنق (گردن)
کی جمع ہے،
اس سے مراد،
لوگوں کی حرص وآز کوبیان کرنا ہے کہ عام طور پر لوگ حصول دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی چیز ان میں باہمی رنجش واختلاف کا باعث بنتی ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
اجم،
قلعہ،
جمع آجام ہے۔
(2)
اعناق،
عنق (گردن)
کی جمع ہے،
اس سے مراد،
لوگوں کی حرص وآز کوبیان کرنا ہے کہ عام طور پر لوگ حصول دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی چیز ان میں باہمی رنجش واختلاف کا باعث بنتی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7276]
حدیث نمبر: 7119M
قَالَ عُقْبَةُ:وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ.
عقبہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا۔ البتہ انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ (فرات سے) سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7119M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Bukhari Hadith 7119 in Urdu
حفص بن عاصم العدوي ← أبو هريرة الدوسي