🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب كيف يبايع الإمام الناس:
باب: امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ حَيْثُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ:" كَتَبَ أني أُقِرُّ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِعَبْدِ اللَّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ علَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ مَا اسْتَطَعْتُ، وَإِنَّ بَنِيَّ قَدْ أَقَرُّوا بِمِثْلِ ذَلِكَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب سب لوگ عبدالملک بن مروان سے بیعت کے لیے جمع ہو گئے۔ بیان کیا کہ انہوں نے عبدالملک کو لکھا کہ میں سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں عبداللہ عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جتنی بھی مجھ میں قوت ہو گی اور یہ کہ میرے لڑکے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7203]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الله بن دينار القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7203 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7203
حدیث حاشیہ:
ہوا یہ کہ جب یزید خلیفہ ہوا تو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے بیعت نہیں کی۔
یزید کے مرتے ہی عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خلافت کا دعویٰ کیا۔
ادھر معاویہ بن یزید بن معاویہ خلیفہ ہوا کچھ لوگوں نے عبد اللہ سے‘ کچھ لوگوں نے معاویہ بن یزید سے بیعت کی لیکن یہ معاویہ جیا نہیں چالیس ہی دن سلطنت کر کے فوت ہو گیا اور مروان خلیفہ بن بیٹھا وہ چھ مہینہ جی کی فوت ہو گیا اور اپنے بیٹے عبد الملک کو خلیفہ کر گیا۔
عبد الملک نے حجاج بن یوسف ظالم کو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے روانہ کیا۔
جب حجاج غالب ہوا اور عبد اللہ بن زبیر شہید ہوئے تو اب سب لوگوں کا اتفاق عبد الملک پر ہو گیا۔
اس وقت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں سمیت اس سے بیعت کرلی۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے نام یہ تھے۔
(1)
عبد اللہ اور (2)
ابو بکر اور (3)
ابو عبیدہ اور (4)
بلال اور (5)
عمر۔
یہ سب صفیہ بنت ابی عبید کے بطن سے تھے اور (6)
عبد الرحمن ان کی ماں علقمہ بنت نافس تھی اور (7)
سالم اور (8)
عبید اللہ اور (9)
حمزہ ان کی ماں لونڈی تھی اسی طرح (10)
زید ان کی بھی ماں لونڈی تھی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7203]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7203
حدیث حاشیہ:
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد تمام لوگوں کا عبدالملک بن مروان کی حکومت پر اتفاق ہو گیا اور تمام لوگوں نے ان کی بیعت کر لی۔
اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹوں سمیت ان کی بیعت کر لی۔
ان کے بیٹوں کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
عبد اللہ ابو بکر، ابو عبیدہ بلال اور عمر۔
یہ بیٹے صفیہ بنت ابو عبید کے بطن سے تھے۔
سالم عبید اللہ اور حمزہ یہ تینوں ان کی لونڈی سے پیدا ہوئے۔
زید کی والدہ بھی لونڈی تھی عبدالرحمٰن، علقمہ بنت نافس سے پیدا ہوئے تھے بہر حال حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹوں سمیت عبدالملک بن مروان کی بیعت کر لی تھی جبکہ فتنے اور انتشار کے وقت آپ نے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7203]