🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب تعليم النبى صلى الله عليه وسلم أمته من الرجال والنساء، مما علمه الله، ليس برأي ولا تمثيل:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں و عورتوں کو وہی باتیں سکھانا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7310
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ، فَقَالَ: اجْتَمِعْنَ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوِ اثْنَيْنِ، قَالَ: فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ، وَاثْنَيْنِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ (یعنی ان کی وفات ہو جائے گی) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7310]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري
ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن الأصبهاني الجهني
Newعبد الرحمن بن الأصبهاني الجهني ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← عبد الرحمن بن الأصبهاني الجهني
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7310
ما منكن امرأة تقدم بين يديها من ولدها ثلاثة إلا كان لها حجابا من النار قالت امرأة منهن يا رسول الله أو اثنين قال فأعادتها مرتين ثم قال واثنين واثنين واثنين
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7310 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7310
حدیث حاشیہ:
باب کا مطلب یہیں سے نکلتا ہے۔
کرمانی نے کہا اس قول سے کہ وہ اس کے لیے دوزخ سے آڑ ہوں گے کیونکہ یہ امر بغیر خدا کے بتلائے قیاس اور رائے سے معلوم نہیں ہو سکتا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7310]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7310
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وحی الٰہی پر مبنی ہوتی تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی رائے یا قیاس سے جواب نہیں دیا،چنانچہ اس حدیث میں ہے کہ تین بچے قیامت کے دن اپنی ماں کے لیے دوزخ سے آڑ ہوں گے۔
یہی ایسی بات ہے جس میں عقل یا قیاس نہیں چل سکتا۔
اس قسم کی بات وحی الٰہی کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتی۔
اس حدیث میں سوال کرنے والی خاتون مبہم ہے۔
شاید وہ اسماء بنت یزید بن سکن ہوں۔
(فتح الباری 13/358)

ہمیں چاہیے کہ دینی مسائل میں شری نصوص کا اتباع کریں،قیاس اور رائے کو بے دریغ استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔
قیاس اور رائے کے استعمال سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کوسوں دور بھاگتے تھے۔
واللہ اعلم۔w
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7310]