🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب ذكر النبى صلى الله عليه وسلم وروايته عن ربه:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7539
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ، عَنْ رَبِّهِ، قَالَ:" لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7539]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥أبو العالية الرياحي، أبو العالية
Newأبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أبو العالية الرياحي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥خليفة بن خياط العصفري، أبو عمرو
Newخليفة بن خياط العصفري ← يزيد بن زريع العيشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← خليفة بن خياط العصفري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر
Newحفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7539
لا ينبغي لعبد أن يقول إنه خير من يونس بن متى
صحيح البخاري
4630
ما ينبغي لعبد أن يقول أنا خير من يونس بن متى
صحيح البخاري
3395
لا ينبغي لعبد أن يقول أنا خير من يونس بن متى ونسبه إلى أبيه موسى آدم طوال كأنه من رجال شنوءة عيسى جعد مربوع ذكر مالكا خازن النار ذكر الدجال
صحيح البخاري
3413
ما ينبغي لعبد أن يقول إني خير من يونس بن متى
صحيح مسلم
6160
ما ينبغي لعبد أن يقول أنا خير من يونس بن متى
سنن أبي داود
4669
ما ينبغي لعبد أن يقول إني خير من يونس بن متى
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 7539 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 7539
حدیث حاشیہ:
اللہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود براہ راست روایت کرنا یہی باب سے مطابقت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7539]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7539
حدیث حاشیہ:

حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی تواضع اور انکسار پر محمول ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت اس لیے کی کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اپنے رب کے حکم کی بنا پر صبر کریں اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں۔
(القلم 68/48)
تاکہ اس آیت کے نزول کی وجہ سے حضرت یونس علیہ السلام میں کسی قسم کی ذلت اور کمزوری کاوہم نہ کیا جائے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا کلام بیان کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں فرق ثابت ہوا جیسا کہ تلاوت اور متلو میں فرق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان مخلوق اور اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے اور روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ہے جو اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7539]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4669
انبیاء و رسل علیہم السلام کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا کیسا ہے؟
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4669]
فوائد ومسائل:
کسی بندے کو لائق نہیں ان الفاظ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ نبی ؐ کے علاوہ کسی اور کو اس طرح کہنا جائز نہیں اور اگر نبی ؐ خود بھی اس میں شامل ہوں، جیسے کہ درج ذیل روایت میں ہے تو اس میں آپ کی ازحد تواضع کا اظہار ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4669]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6160
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:" کسی بندے کے لیے زیبا نہیں ہے کہ وہ یہ کہے،میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔"آپ نے ان کی نسبت،اس کے باپ کی طرف کی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6160]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
متی حضرت یونس علیہ السلام کے باپ کا نام ہے،
ماں کا نام نہیں ہے،
جبکہ وہب بن منبہ،
امام طبری اور ابن اثیر،
اس کو ماں کا نام قرار دیتے ہیں۔
(تکملہ ج 5 ص 35)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6160]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3413
3413. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کسی شخص کو یہ زیبا نہیں کہ وہ کہے: میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ آپ نے ان کو باپ کی طرف منسوب کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3413]
حدیث حاشیہ:
حضرت یونس ؑ کوقرآن مجید نے ذوالنون یعنی مچھلی والا بھی کہاہے جنہوں نے مچھلی کےپیٹ میں جاکر آیت کریمہ ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ کا ورد کیا تھا۔
اللہ تعالی نے اس کی برکت سےان کومچھلی کےپیٹ سےزندہ باہر نکال لیا۔
اس آیت کریمہ کے ورد میں اب بھی یہی تاثیرہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3413]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3413
3413. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کسی شخص کو یہ زیبا نہیں کہ وہ کہے: میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ آپ نے ان کو باپ کی طرف منسوب کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3413]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس ؑ کا قصہ سن کر کوئی ان کی تحقیر و تنقیص نہ کرے اور آپ کا یہ ارشاد عجز و انکسار اور تواضع کے طور پر ہے بصورت دیگر آپ تمام انبیاء ؑ سے افضل ہیں۔
بعض مؤرخین نے متی کو حضرت یونس ؑ کی والدہ کا نام بتایا ہے۔
امام بخاری ؒنے اس کی تردید فرمائی کہ متی ان کے والد کا نام ہے والدہ کا نہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3413]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4630
4630. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کسی بندے کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4630]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ امت کا کوئی فرد اپنے آپ کو کسی بھی نبی سے بہتر نہ کہے اس کے لیے قطعاً یہ جائز نہیں ہے نیز اس کا دوسرا مفہوم بیان کیا جا تا ہے کہ کسی بندے کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یونس بن متی سے بہتر ہوں لیکن اس پر یہ اشکال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو افضل الانبیاء ہیں پھر آپ نے یہ خود بھی کہا ہے کہ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس میں میں فخر نہیں کرتا ہوں محدثین نے اس اشکال کے درج ذیل جوابات دیے ہیں۔
۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ممانعت افضیلت کے علم سے پہلے کا ہے۔
۔
آپ نے یہ ارشاد تواضع اور انکسار کے طور پر فرمایا ہے۔
۔
اس اندازسے آپ نے امت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ مچھلی کے واقعے سے متاثر ہو کر کوئی شخص کسی نبی کے حق میں گستاخی نہ کرے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4630]