🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب القراءة فى الظهر:
باب: نماز ظہر میں قرآت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَيُسْمِعُ الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ہر رکعت میں ایک ایک سورت پڑھتے تھے، ان میں بھی قرآت کرتے تھے لیکن آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے تھے کبھی کبھی ہم کو بھی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے۔ عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ اور سورتیں پڑھتے تھے، اس کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتے۔ اسی طرح صبح کی نماز کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری ہلکی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري، أبو إبراهيم، أبو يحيى
Newعبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
762
يقرأ في الركعتين من الظهر والعصر بفاتحة الكتاب وسورة سورة ويسمعنا الآية أحيانا
صحيح البخاري
779
يطول في الركعة الأولى من صلاة الظهر ويقصر في الثانية ويفعل ذلك في صلاة الصبح
صحيح البخاري
759
يقرأ في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر بفاتحة الكتاب وسورتين يطول في الأولى ويقصر في الثانية ويسمع الآية أحيانا وكان يقرأ في العصر بفاتحة الكتاب وسورتين وكان يطول في الأولى وكان يطول في الركعة الأولى من صلاة الصبح ويقصر في الثانية
صحيح البخاري
778
يقرأ بأم الكتاب وسورة معها في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر وصلاة العصر ويسمعنا الآية أحيانا يطيل في الركعة الأولى
صحيح البخاري
776
يقرأ في الظهر في الأوليين بأم الكتاب وسورتين وفي الركعتين الأخريين بأم الكتاب ويسمعنا الآية يطول في الركعة الأولى ما لا يطول في الركعة الثانية وهكذا في العصر وهكذا في الصبح
صحيح مسلم
1013
يقرأ في الركعتين الأوليين من الظهر والعصر بفاتحة الكتاب وسورة ويسمعنا الآية أحيانا ويقرأ في الركعتين الأخريين بفاتحة الكتاب
صحيح مسلم
1012
يقرأ في الظهر والعصر في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية أحيانا يطول الركعة الأولى من الظهر ويقصر الثانية وكذلك في الصبح
سنن أبي داود
798
يصلي بنا فيقرأ في الظهر والعصر في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية أحيانا يطول الركعة الأولى من الظهر ويقصر الثانية وكذلك في الصبح
سنن النسائى الصغرى
978
يقرأ في الظهر والعصر في الركعتين الأوليين بأم القرآن وسورتين وفي الأخريين بأم القرآن وكان يسمعنا الآية أحيانا يطيل أول ركعة من صلاة الظهر
سنن النسائى الصغرى
975
يصلي بنا الظهر فيقرأ في الركعتين الأوليين يسمعنا الآية كذلك يطيل الركعة في صلاة الظهر والركعة الأولى يعني في صلاة الصبح
سنن النسائى الصغرى
979
يقرأ في الظهر والعصر في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية أحيانا يطيل الركعة الأولى في الظهر ويقصر في الثانية وكذلك في الصبح
سنن النسائى الصغرى
977
يقرأ بنا في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر ويسمعنا الآية أحيانا يطول في الأولى ويقصر في الثانية وكان يفعل ذلك في صلاة الصبح يطول في الأولى ويقصر في الثانية وكان يقرأ بنا في الركعتين الأوليين من صلاة العصر يطول الأولى ويقصر الثانية
سنن النسائى الصغرى
976
يقرأ بأم القرآن وسورتين في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر وصلاة العصر ويسمعنا الآية أحيانا يطيل في الركعة الأولى
سنن ابن ماجه
819
يصلي بنا فيطيل في الركعة الأولى من الظهر ويقصر في الثانية وكذلك في الصبح
سنن ابن ماجه
829
يقرأ بنا في الركعتين الأوليين من صلاة الظهر ويسمعنا الآية أحيانا
بلوغ المرام
224
يصلي بنا فيقرا في الظهر والعصر في الركعتين الاوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية احيانا ويطول الركعة الاولى ويقرا في الاخريين بفاتحة الكتاب
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 759 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:759
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر قراءت کرتے اور دوسری دورکعات میں پندرہ آیات کے برابر تلاوت فرماتے، نیز عصر کی پہلی دو رکعات میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیات کے برابر قراءت کرتے اور دوسری دورکعات میں اس سے نصف کے بقدر قراءت کرتے تھے۔
(مسندأحمد: 3/2)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت کو اس قدر لمبا اس لیے کرتے تھے کہ نمازی پہلی رکعت میں شریک ہوسکیں۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 800) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر اور عصر کی آخری دو رکعات میں سورۂ فاتحہ کے بعد قراءت کرنا بھی مسنون ہے اور کبھی آپ آخری دورکعات میں صرف فاتحہ ہی پڑھتے تھے۔
جیسا کہ حدیث الباب میں وضاحت ہے۔
بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت طویل ہوجاتی تھی، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ نماز ظہر کے لیے اقامت ہوئی تو ایک شخص اپنے گھر سے بقیع کی طرف قضائے حاجت کےلیے گیا، وہاں سے فارغ ہوکر اپنے گھر آیا، وضو کیا، پھر مسجد میں آیا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہیں۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1020 (454)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 759]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 224
ظہر اور عصر کی نمازوں میں سری قرأت
«. . . وعن ابي قتادة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي بنا فيقرا في الظهر والعصر في الركعتين الاوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية احيانا ويطول الركعة الاولى ويقرا في الاخريين بفاتحة الكتاب . . .»
. . . سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی رکعتوں میں سورۃ «فاتحه» اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں کوئی آیت سنا بھی دیتے تھے۔ پہلی رکعت بھی لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف «‏‏‏‏فاتحة الكتاب» ‏‏‏‏ پڑھتے تھے . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 224]
لغوی تشریح:
«بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ» یعنی سورہ فاتحہ ہر رکعت میں پڑھتے تھے۔
«وَ سُورَتَيْنِ» ہر ایک رکعت میں ایک سورت پڑھتے۔
«يُسْمِعُنَا» إسماع سے ماخوذ ہے، یعنی ہمیں سناتے تھے۔
«أَحْيَانًا» حین کی جمع ہے، بسا اوقات، بعض اوقات۔
«يُطَوِّلُ» تطویل سے ماخوذ ہے۔ طول دینا، لمبا کرنا۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرأت بالاتفاق سری (خاموشی سے) ہے۔
➋ جب قرأت جہری نہیں تو پھر بعض اوقات کوئی آیت سنانے کی کیا حکمت اور وجہ ہے؟ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ نمازیوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ آپ اس وقت قرآن مجید ہی کا کوئی حصہ تلاوت فرما رہے ہیں دوسرا کوئی ذکر یا دعا نہیں پڑھ رہے۔ دوسری یہ کہ اس کا بھی نمازیوں کو علم ہو جائے کہ اس نماز میں فلاں سورت پڑھی جارہی ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی اس حدیث سے مترشح ہوتا ہے کہ پہلی رکعت میں قرأت نسبتاً لمبی اور دوسری میں چھوٹی ہونی چاہیے۔ ائمہ ثلاثہ: امام احمد، امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ علیہم کے ساتھ ساتھ امام محمد رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے، البتہ امام ابوحنیفہ اور ابویوسف رحمہما اللہ علیہم کے نزدیک دونوں رکعتوں میں قرأت مساوی ہونی چاہیے۔
➌ ظہر، عصر اور فجر میں تو پہلی رکعت کا لمبا ہونا نص سے ثابت ہے، باقی دو کو انھی پر قیاس کر لیا ہے۔ ایسا آپ کیوں کرتے تھے؟ اس کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ لوگ پہلی رکعت میں شامل ہو جائیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کے سوا اور کچھ نہ پڑھے، لیکن بعض احادیث سے پچھلی رکعتوں میں قرأت کرنا بھی ثابت ہے، اس لیے آخری دو رکعتوں میں فاتحہ سے زائد قرأت نہ بھی کی جائے تب بھی درست ہے اور قرأت کر لی جائے تو بھی یہ ناجائز نہیں۔ [صحيح مسلم، الصلاة، باب القراءة فى الظهر والعصر، حديث: 452]
➍ ایک مسئلہ یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ سری نمازوں میں کسی آیت کو بلند آواز سے پڑھنے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسا فعل آپ سے ایک مرتبہ ہی عمل میں نہیں آیا بلکہ متعدد بار ایسا ہوا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 224]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 224
نماز کی صفت کا بیان
«. . . وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصلي بنا فيقرأ في الظهر والعصر في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورتين ويسمعنا الآية أحيانا ويطول الركعة الأولى ويقرأ في الأخريين بفاتحة الكتاب . متفق عليه. . . .»
. . . سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو ظہر اور عصر کی پہلی رکعتوں میں سورۃ «فاتحه» اور دو سورتیں پڑھتے تھے اور کبھی ہمیں کوئی آیت سنا بھی دیتے تھے۔ پہلی رکعت بھی لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف «فاتحة الكتاب» پڑھتے تھے۔ (بخاری و مسلم) . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 224]
لغوی تشریح:
«نَحْزُرُ» باب «نَصَرَ يَنْصُرُ» ، تخمینہ لگاتے، قیاس کرتے، اندازہ لگاتے تھے۔
«قَدْر الٓمّٓ تَنْزِيْلُ السجدة» یعنی دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد ہر رکعت میں اس سورت کی مقدار کے برابر قرأت فرماتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کی پہلی اور دوسری رکعت میں قرأت برابر ہوتی تھی۔ یہ بات پچھلی حدیث بخاري: 776، مسلم: 451 کے خلاف ہے۔ اسے اوقات کے مختلف ہونے پر محمول کیا جائے گا کہ کبھی برابر پڑھتے اور کبھی پہلی رکعت بڑی اور دوسری چھوٹی ہوتی تھی، یا پھر یہ کہا جائے گا کہ پہلی رکعت میں چونکہ دعائے استفتاح اور تعوذ زائد پڑھے جاتے ہیں، اس لیے وہ لمبی بن جاتی ہے، قرأت دونوں رکعتوں میں ایک ہی جتنی ہے۔ اس طرح دونوں احادیث میں مطابقت پیدا ہو جائے گی اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔
«وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرِ النِّصْفِ» یعنی نصف مقدار۔
«مِنْ ذٰلِكَ» یعنی پہلی دو رکعتوں کی طوالت سے نصف۔

فائدہ:
اس حدیث سے ظہر و عصر کی نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدار قرأت کا اندازہ ہوتا ہے، نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی دو رکعتوں میں بھی سورہ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری آیت پڑھنا مسنون ہے۔ اس کی تائید اس طرح ہوتی ہے کہ عصر کی پہلی دو رکعتیں اور ظہر کی آخری دو برابر ہوتی تھیں۔ اور یہ پکی بات ہے کہ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ بھی قرأت ہوتی تھی، لہٰذا ظہر میں بھی اسی طرح ہوتا تھا۔ اور کبھی نہ پڑھنا بھی ثابت ہے، لہٰذا نمازی اگر آخری دونوں رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ دوسری آیت بھی پڑھ لے تو اس کی اجازت ہے اور نہ پڑھے تب بھی گنجائش ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 225]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 975
ظہر کی پہلی رکعت میں لمبا قیام کرنے کا بیان۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 975]
975 ۔ اردو حاشیہ: ظہر کے وقت لوگ کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں اور فجر کے وقت لوگ نیند سے بیدار ہوتے ہیں۔ جاگنے میں دیر ہو سکتی ہے۔ جاگنے کے بعد کے لوازمات، مثلا: قضائے حاجت، غسل یا مسواک میں وقت لگتا ہے، اس لیے پہلی رکعت کو لمبا کیا جائے تاکہ زیادہ لوگ جماعت کے ساتھ شامل ہو سکیں، اسی لیے ان نمازوں میں اذان اور اقامت کا درمیانی فاصلہ بھی زیادہ رکھا جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 975]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 976
ظہر میں امام کا ایک آدھ آیت بلند آواز سے پڑھ کر سنا دینے کا بیان۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 976]
976 ۔ اردو حاشیہ: نماز ظہر اور نماز فجر کے علاوہ دوسری نمازوں میں پہلی رکعت لمبی کرنی چاہیے تاکہ لوگ حوائج ضروریہ اور وضو وغیرہ سے فارغ ہو کر مل سکیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 976]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 978
نماز ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 978]
978 ۔ اردو حاشیہ: فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ مزید سورت ملائی جاتی ہے مگر آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ کافی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ ہر کعت میں پڑھنا ضروری ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔ لیکن احناف کے نزدیک آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا ضروری نہیں بلکہ نمازی کو اختیار ہے، چاہے قرأت کر لے یا تسبیح و تحمید کرے یا خاموش کھڑا رہے۔ لیکن جمہور کا مذہب راجح اور سنت صحیحہ کے مطابق ہے۔ مزید دیکھیے: (شرح صحیح مسلم للنوی: 232/4، تحت حدیث: 451) بعض روایات میں آخری دو رکعتوں میں بھی سورت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ جائز ہے، ضروری نہیں۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 978]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث819
فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 819]
اردو حاشہ:
فائده:
اس میں حکمت یہ ہے کہ پہلی رکعت میں طبیعت میں نشاط اور آمادگی ہوتی ہے۔
اس لئے قرآن زیادہ پڑھا اور سنا جاسکتا ہے۔
جبکہ دوسری رکعت میں جسم تھکاوٹ محسوس کرتا ہے۔
اور طبیعت کی آمادگی اس درجے کی نہیں رہتی ا س لئے قراءت نسبتاً مختصر کردینی چاہے۔
اس میں یہ فائدہ بھی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جماعت مل جائے اور پہلی رکعت فوت نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 819]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث829
ظہر و عصر میں کبھی کوئی آیت آواز سے پڑھ دینے کا بیان۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں (سری) قراءت فرماتے تھے، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ا؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 829]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
سری نماز میں کوئی آیت یا لفظ آوازسے پڑھنے سے نماز میں نقص نہیں آتا۔

(2)
ممکن ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس انداز سے قراءت کا اظہار اس لئے کرتے ہوں کہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین کو معلوم ہوجائے کہ سری نماز میں فاتحہ کے بعد کسی بھی مقام سے قراءت کی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 829]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 762
762. حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور کوئی ایک ایک سورت پڑھتے تھے۔ اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا بھی دیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:762]
حدیث حاشیہ:
مقصود یہ ہے کہ ظہراورعصر کی نمازوں میں بھی امام اور مقتدی ہر دو کے لیے قرات سورۃ فاتحہ اورا س کے بعد پہلی دو رکعات میں کچھ اور قرآن پاک پڑھنا ضروری ہے۔
سورۃ فاتحہ کا پڑھنا تو اتناضروری ہے کہ اس کے پڑھے بغیر نماز ہی نہ ہوگی اورکچھ آیات کا پڑھنا بس مسنون طریقہ ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ سری نمازوں میں مقتدیوں کو معلوم کرانے کے لیے امام اگرکبھی کسی آیت کو آواز سے پڑھ دے تواس سے سجدئہ سہو لازم نہیں آتا۔
نسائی کی روایت میں ہے کہ ہم صحابہ آپ سے سورۃ لقمان اور سورۃ والذاریات کی آیت کبھی کبھار سن لیاکرتے تھے۔
بعض روایتوں میں سورۃ سبح اسم اورسورۃ ﴿هل أتاك حدیث الغاشیة﴾ کا ذکر آیا ہے۔
بہرحال اس طرح کبھی کبھار کوئی آیت آواز سے پڑھ دی جائے توکوئی حرج نہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 762]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:762
762. حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور کوئی ایک ایک سورت پڑھتے تھے۔ اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا بھی دیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:762]
حدیث حاشیہ:
(1)
یہ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
امام بخاری ؒ کا مقصود نماز عصر میں قراءت کو ثابت کرنا ہے، چنانچہ ان احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
اس کے علاوہ حضرت جابر بن سمرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر میں ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ پڑھتے تھے، ایک دوسری روایت میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ پڑھنے کا ذکر ہے اور عصر میں بھی اس کی مانند کوئی سورت پڑھتے تھے اور فجر میں لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1030،1029(460،459)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ایک دوسری روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز ظہر اور عصر میں ﴿وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ﴿١﴾ اور ﴿وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ ﴿١﴾ پڑھنے کا ذکر ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 805) (2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ ان احادیث سے سری نمازوں میں بعض اوقات بآواز بلند پڑھنے کا جواز ملتا ہے اور ایسا کرنے پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہوتا جیسا کہ احناف نے کہا ہے، خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات بیان جواز کے لیے دانستہ ایسا کرتے ہوں یا قرآن مجید میں تدبر کرتے ہوئے غیر شعوری طور پر بعض آیات کو بآواز بلند پڑھتے ہوں۔
(فتح الباري: 317/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 762]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:776
776. حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دو سورتیں مزید پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھتے تھے۔ اور کبھی کبھی کوئی آیت ہمیں سنا بھی دیتے تھے۔ اور آپ پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے لمبا کرتے تھے، اسی طرح عصر اور صبح کی نماز میں بھی یہی معمول تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:776]
حدیث حاشیہ:
مغرب کی تیسری رکعت کا وہی حکم ہے جو ظہر اور عصر کی آخری دورکعتوں کا ہے۔
ممکن ہے اس میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ مزید قراءت کرنے کا جواز ہو، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے متعلق احادیث میں ہے کہ انھوں نے مغرب کی تیسری رکعت میں ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ﴿٨﴾) (آل عمران8: 3)
پڑھی تھی۔
(فتح الباري: 337/2)
بعض فقہاء کے نزدیک ظہر اور عصر کی آخری دورکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ مزید سورت بھی پڑھنی چاہیے، جبکہ کچھ حضرات کا خیال ہے کہ سورۂ فاتحہ پڑھنا بھی ضروری نہیں۔
امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ آخری دورکعات میں کم ازکم سورۂ فاتحہ ضرور پڑھنی چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 776]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:778
778. حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورت بھی پڑھتے تھے اور کبھی کبھار ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے، نیز آپ پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:778]
حدیث حاشیہ:
سری نماز میں اگر کوئی آیت بآواز بلند پڑھ دی جائے تو اس سے نماز مکروہ نہیں ہوگی، اسی طرح اگر ایک آیت کے بجائے دو آیات سنادی جائیں تو بھی نماز صحیح ہے۔
یہ موقف ان لوگوں کے خلاف ہے جو سہو یا غیر سہو کی وجہ سے کوئی آیت بآواز بلند پڑھنے پر سجدۂ سہو ضروری قرار دیتے ہیں۔
اس حدیث سے ان حضرات کی کھلی الفاظ میں تردید ہوتی ہے۔
(فتح الباري: 338/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 778]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:779
779. حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی رکعت کو لمبا کرتے تھے اور دوسری رکعت کو مختصر فرماتے تھے اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:779]
حدیث حاشیہ:
حدیث کے ظاہری الفاظ کا تقاضا ہے کہ ہرنماز کی پہلی رکعت کو کچھ لمبا کیا جائے تاکہ لوگوں کو شمولیت کا موقع مل سکے، امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ صرف فجر کی نماز میں پہلی رکعت کو لمبا کیا جائے، دوسری نمازوں میں ایسا نہ کیا جائے۔
امام بیہقی ؒ نے تطبیق کی صورت بیان کی ہے کہ اگر کسی کا انتظار ہوتو پہلی رکعت کو لمبا کیا جاسکتا ہے۔
بصورت دیگر پہلی دونوں رکعات برابر ہونی چاہییں، چنانچہ حضرت عطاء ؒ فرماتے ہیں کہ میں ہر نماز کی پہلی رکعت کے متعلق یہ پسند کرتا ہوں کہ امام اسے طویل کرے تاکہ لوگوں کی شمولیت زیادہ ہو۔
اور جب میں اکیلا نماز پڑھوں تو پہلی دونوں رکعات کے برابر ہونے کو پسند کرتا ہوں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ صبح کی نماز میں تو پہلی رکعت طویل ہونی چاہیے اور دیگر نمازوں میں اگر لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہوتو پہلی کو طویل کیا جاسکتا ہے، بصورت دیگر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
نماز صبح میں پہلی رکعت طویل کرنے کی یہ وجہ ہے کہ نیند اور آرام سے بیدار ہونا کچھ مشکل ہوتا ہے، اس لیے ایسے لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے پہلی رکعت کو طویل کیا جائے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 239/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 779]