🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
133. باب السجود على سبعة أعظم:
باب: سات ہڈیوں پر سجدے کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 811
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الْأَرْضِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن یزید سے، انہوں نے کہا کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ «سمع الله لمن حمده‏» کہتے (یعنی رکوع سے سر اٹھاتے) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 811]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ جھوٹے آدمی نہیں تھے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، جب آپ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہتے تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أمية
Newعبد الله بن يزيد الأوسي ← البراء بن عازب الأنصاري
صحابي صغير
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عبد الله بن يزيد الأوسي
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥آدم بن أبي إياس، أبو الحسن
Newآدم بن أبي إياس ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
747
إذا صلوا مع النبي فرفع رأسه من الركوع قاموا قياما حتى يرونه قد سجد
صحيح البخاري
690
إذا قال سمع الله لمن حمده لم يحن أحد منا ظهره حتى يقع النبي ساجدا ثم نقع سجودا بعده
صحيح البخاري
811
سمع الله لمن حمده لم يحن أحد منا ظهره حتى يضع النبي جبهته على الأرض
صحيح مسلم
1065
لا يحنو أحد منا ظهره حتى نراه قد سجد
صحيح مسلم
1064
سمع الله لمن حمده لم نزل قياما حتى نراه قد وضع وجهه في الأرض ثم نتبعه
صحيح مسلم
1063
إذا قال سمع الله لمن حمده لم يحن أحد منا ظهره حتى يقع رسول الله ساجدا ثم نقع سجودا بعده
صحيح مسلم
1062
إذا رفع رأسه من الركوع لم أر أحدا يحني ظهره حتى يضع رسول الله جبهته على الأرض ثم يخر من وراءه سجدا
جامع الترمذي
281
إذا صلينا خلف رسول الله فرفع رأسه من الركوع لم يحن رجل منا ظهره حتى يسجد رسول الله فنسجد
سنن أبي داود
620
إذا رفعوا رءوسهم من الركوع مع رسول الله قاموا قياما فإذا رأوه قد سجد سجدوا
سنن أبي داود
621
نصلي مع النبي فلا يحنو أحد منا ظهره حتى يرى النبي يضع
سنن النسائى الصغرى
830
رفع رأسه من الركوع قاموا قياما حتى يروه ساجدا ثم سجدوا
المعجم الصغير للطبراني
187
سمع الله لمن حمده لم يحن أحد منا ظهره حتى يسجد النبى صلى الله عليه وسلم ، ثم نسجد معه
مسندالحميدي
742
لم يكن منا أحد يحنو حتى يرى رسول الله صلى الله عليه وسلم قد خر ساجدا
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 811 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 811
حدیث حاشیہ:
اصل میں پیشانی ہی زمین پر رکھنا سجدہ کرنا ہے اور ناک بھی پیشانی ہی میں داخل ہے۔
اس لیے ناک اور پیشانی ہر دو کا زمین سے لگانا واجب ہے۔
پھر دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں کا زمین پر ٹیکنا اور دونوں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رخ موڑ کر رکھنا یہ کل سات اعضاءہوئے جن میں سجدہ ہوتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 811]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:811
حدیث حاشیہ:
(1)
امام سے پہلے مقتدی کے لیے کسی رکن میں مصروف ہونا منع ہے، اس لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس حکم امتناعی کا بہت خیال رکھتے تھے۔
(2)
علامہ کرمانی ؒ نے اس حدیث کی عنوان سے مطابقت بایں الفاظ بیان کی ہے کہ عام طور پر دوران سجدہ میں پیشانی کو دیگر چھ اعضاء کی معاونت ہی سے زمین پر رکھا جاتا ہے، چونکہ اس حدیث میں دیگر اعضائے سجدہ کا ذکر نہیں ہے، اس لیے دیگر احادیث جن میں صرف پیشانی کا ذکر ہے تو وہ دوسرے اعضائے سجدہ کے مقابلے میں اس کے اشرف عضو ہونے کی وجہ سے ہے۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ پیشانی پر سجدہ کرنا واجب ہے، اس لیے بعض روایات میں صرف پیشانی کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے اور باقی اعضاء پر سجدہ مستحب ہے، اس لیے بعض روایات میں انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 384/2)
لیکن یہ موقف صحیح نہیں کیونکہ سات اعضاء پر سجدہ کرنے کو لفظ امر سے تعبیر کیا گیا ہے جو وجوب کے لیے ہے، لہٰذا کسی عضو کو چھوڑ کر باقی اعضاء پر اکتفا کرنا صحیح نہیں۔
ہاں، اگر کوئی عذر مانع ہو تو الگ بات ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 811]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 830
رکوع، سجود وغیرہ میں امام سے سبقت کرنے کا بیان۔
براء رضی اللہ عنہ (جو جھوٹے نہ تھے ۱؎) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں، پھر وہ سجدہ میں جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 830]
830 ۔ اردو حاشیہ: ہو سکتا ہے امام صاحب بزرگ ہوں یا انہیں کوئی تکلیف ہو جس کی وجہ سے انہیں سجدے تک جاتے جاتے دیر لگ جائے۔ اگر مقتدی ان کے سر جھکاتے ہی سجدے میں جانا شروع کر دیں تو ممکن ہے تیز رفتار یا نوجوان مقتدی ان سے پہلے سجدے میں پہنچ جائیں اس لیے ضروری ہے کہ مقتدی اس وقت سجدے کے لیے جھکیں جب امام صاحب سجدے میں سرزمین پر رکھ لیں۔ اس طرح رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت بھی انتظار کیا جائے کہ امام صاحب سیدھے کھڑے ہو جائیں پھر مقتدی اٹھنا شروع کریں تاکہ امام سے آگے بڑھنے کا امکان بھی نہ رہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 830]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1062
حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ (وہ جھوٹے نہ تھے) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اپنا سر اٹھالیتے تو میں کسی کو اس وقت تک اپنی پشت جھکاتے نہ دیکھتا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے والے سجدہ میں جاتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1062]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے عبداللہ بن یزید کا غیرکذوب کہنا،
حالانکہ الصحابۃ کلھم عدول کی رو سے اس کی ضرورت نہیں محض ان کی تعریف وتوصیف کے لیے ہے توثیق وتوکید کے لیے نہیں ہے اور اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے مقتدی اس وقت تک سجدہ کے لیے نہ جھکیں جب تک امام اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1062]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:690
690. حضرت براء بن عازب ؓ۔۔۔ جو جھوٹے نہیں ہیں۔۔ ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمع الله لمن حمده کہتے تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی کمرنہ جھکاتا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے جاتے۔ پھر ہم آپ کے بعد سجدہ ریز ہوتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:690]
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجر ؒ نے اس حدیث کا پس منظر طبرانی کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ راوئ حدیث حضرت عبداللہ بن یزید کوفے میں لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔
اس پر انھوں نے یہ حدیث ان کے مذکورہ عمل کی تردید میں بیان فرمائی۔
(فتح الباري: 236/2)
اس حدیث میں امام کی اقتدا کو بیان کیا گیا ہے، چنانچہ امام ابو داود ؒ نے اپنی سنن میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے:
مقتدی کو امام کی پوری متابعت کرنی چاہیے اس کے تحت حضرت معاویہ بن ابو سفیان ؓ کی ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم مجھ سے پہلے رکوع اور سجدے میں مت جایا کرو، جس قدر میں رکوع (یاسجدہ)
تم سے پہلے کروں گا اتنا تم پا لو گے جب میں تم سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا کیونکہ میں موٹا ہو گیا ہوں۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 619)
یعنی جب میں رکوع یا سجدے سے سر اٹھاؤں گا تو تم لوگ رکوع اور سجدے میں رہو گے یہ عوض ہوگا اس قدر دیر کا جو تم میرے بعد رکوع یا سجدے میں گئے تھے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن بھاری ہوگیا تو آپ نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بطور خاص ہدایت فرمائی کہ میری اتباع میں حسب عادت جاری رہنے کی وجہ سے کہیں مسابقت اور مبادرت کے مرتکب نہ ہو جائیں۔
اس سے واضح طور پر مقارنت کی نفی ثابت ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی حضرات اپنے امام کے افعال پر نظر رکھیں، جب وہ کسی رکن میں مصروف ہو جائے، پھر انھیں اس رکن میں مصروف ہونے کی اجازت ہے، اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا رکن سے فراغت کے بعد اس میں مصروف ہونے کی اجازت نہیں۔
(فتح الباري: 236/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 690]

Sahih Bukhari Hadith 811 in Urdu