صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
153. باب يسلم حين يسلم الإمام:
باب: اس بارے میں کہ امام کے سلام پھیرتے ہی مقتدی کو بھی سلام پھیرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: Q838
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَحِبُّ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَنْ يُسَلِّمَ مَنْ خَلْفَهُ.
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو مستحب جانتے تھے کہ مقتدی بھی اسی وقت سلام پھیریں جب امام سلام پھیرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q838]
حدیث نمبر: 838
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں معمر بن راشد نے زہری سے خبر دی، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے انہیں عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عتبان بن مالك الأنصاري | صحابي | |
👤←👥محمود بن الربيع الخزرجي، أبو محمد، أبو نعيم محمود بن الربيع الخزرجي ← عتبان بن مالك الأنصاري | صحابي صغير | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← محمود بن الربيع الخزرجي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة معمر بن أبي عمرو الأزدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥حبان بن موسى المروزي، أبو محمد حبان بن موسى المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
838
| صلينا مع النبي فسلمنا حين سلم |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 838 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 838
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کا مقصد باب سے یہ ہے کہ مقتدیوں کو سلام پھیرنے میں دیر نہ کرنی چاہیے بلکہ امام کے ساتھ ہی وہ بھی سلام پھیر دیں۔
امام بخاری ؒ کا مقصد باب سے یہ ہے کہ مقتدیوں کو سلام پھیرنے میں دیر نہ کرنی چاہیے بلکہ امام کے ساتھ ہی وہ بھی سلام پھیر دیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 838]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:838
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان حدیث بالا سے ماخوذ ہے۔
اس میں کئی ایک احتمال ہیں:
یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ امام کی ابتدا کے بعد مقتدی اپنے سلام کا آغاز کرے، یعنی مقتدی اپنے امام کے اختتامِ سلام سے پہلے پہلے سلام کا آغاز کر دے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب امام اپنے سلام کو پورا کرے تو اس کے بعد مقتدی اس کا آغاز کرے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس کے متعلق ایک مجتہد کو غور فکر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
(فتح الباري: 417/2)
ہمارے نزدیک امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ مقتدیوں کو سلام پھیرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے بلکہ امام کی متابعت کرتے ہوئے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان حدیث بالا سے ماخوذ ہے۔
اس میں کئی ایک احتمال ہیں:
یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ امام کی ابتدا کے بعد مقتدی اپنے سلام کا آغاز کرے، یعنی مقتدی اپنے امام کے اختتامِ سلام سے پہلے پہلے سلام کا آغاز کر دے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب امام اپنے سلام کو پورا کرے تو اس کے بعد مقتدی اس کا آغاز کرے، اس لیے امام بخاری ؒ نے اس کے متعلق ایک مجتہد کو غور فکر کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
(فتح الباري: 417/2)
ہمارے نزدیک امام بخاری ؒ کا مقصود یہ ہے کہ مقتدیوں کو سلام پھیرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے بلکہ امام کی متابعت کرتے ہوئے ساتھ ہی سلام پھیر دینا چاہیے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 838]
محمود بن الربيع الخزرجي ← عتبان بن مالك الأنصاري