🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
155. باب الذكر بعد الصلاة:
باب: نماز کے بعد ذکر الٰہی کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q842
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں ذکر سن کر لوگوں کی نماز سے فراغت کو سمجھ جاتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: Q842]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابو معبد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کو تکبیر ( «الله اكبر») کی وجہ سے سمجھ جاتا تھا۔ علی بن مدینی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو کے حوالے سے بیان کیا کہ ابومعبد ابن عباس کے غلاموں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے۔ علی بن مدینی نے بتایا کہ ان کا نام نافذ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 842]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نافذ مولى ابن عباس، أبو معبد
Newنافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← نافذ مولى ابن عباس
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
842
انقضاء صلاة النبي بالتكبير
صحيح مسلم
1316
انقضاء صلاة رسول الله بالتكبير
صحيح مسلم
1317
انقضاء صلاة رسول الله إلا بالتكبير
سنن أبي داود
1002
انقضاء صلاة رسول الله بالتكبير
سنن النسائى الصغرى
1336
انقضاء صلاة رسول الله بالتكبير
مسندالحميدي
486
ما كنا نعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا بالتكبير
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 842 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:842
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حدیث سابق میں بآواز بلند ذکر کرنے سے مراد اللہ أکبر کہنا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کا سلام پھیر کر بآواز بلند اللہ أکبر کہتے تھے۔
اس سے ثابت ہوا کہ امام اور مقتدیوں کو نماز سے فارغ ہوتے ہی بلند آواز سے ایک بار "اللہ أکبر" کہنا چاہیے۔
نماز سے فراغت کے بعد دیگر اذکار پڑھنے کا ثبوت بھی احادیث سے ملتا ہے، چنانچہ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز ختم کرتے تو تین بار أستغفرالله کہتے اور اس کے بعد یہ کلمات کہتے:
اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذالجلال والإكرام اے اللہ! تو سراپا سلام ہے۔
تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔
اے عظمت و جلال والے! تو بڑا ہی بابرکت ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1334(591) (2)
حدیث کے آخر میں حضرت ابن عباس ؓ کے غلام ابو معبد نافذ کا تذکرہ ہے جس کے متعلق راوئ حدیث عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو معبد سے اس حدیث کا تذکرہ کیا تو اس نے صاف انکار کر دیا کہ میں نے تجھے یہ حدیث بیان نہیں کی۔
امام شافعی نے فرمایا ہے کہ شاید وہ بیان کے بعد بھول گئے ہوں، بہرحال حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے۔
(فتح الباري: 421/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 842]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1336
امام کے سلام پھیرنے کے بعد تکبیر کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1336]
1336۔ اردو حاشیہ:
➊ نماز سے فراغت کے بعد ذکر مسنون ہے۔ اس کی ابتدا اللہ أکبر سے کی جائے۔ آواز درمیانی ہو، نہ بہت بلند ہو اور نہ بالکل آہستہ تاکہ سب مقتدیوں کی آواز مل کر ایک گونج سی پیدا ہو جائے باقی ذکر آہستہ کیا جائے۔
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نابالغ ہونے کی وجہ سے پچھلی صفوں میں کھڑے ہوتے تھے، اس لیے ان تک سلام کی آواز نہیں پہنچتی تھی۔ سلام کے بعد جب تکبیر کی آوازگونجتی تو انہیں نماز کے ختم ہونے کا پتہ چلتا۔ ممکن ہے تکبیر بلند آواز سے کہنے میں یہ حکمت بھی ہو کہ لوگوں کو نماز ختم ہونے کا پتہ چل جائے، جیسے نماز میں تکبیرات انتقال بلند آواز سے کہی جاتی ہیں، اذان بلند آواز سے کہی جاتی ہے وغیرہ، لہٰذا یہ بات کمزور ہے کہ ذکر میں اخفا مناسب ہے، اس لیے سلام کے بعد تکبیر آہستہ کہی جائے جیسا کہ یہ جمہور اہل علم کا موقف ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1336]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:486
486- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر کے ذریعے چلتا تھا۔ عمرو بن دینار نامی راوی یہ کہتے ہیں: میں اپنے استاد ابومعمر کے سامنے یہ روایت ذکر کی، تو انہوں نے ا کا انکار کردیا اور بولے: میں نے تو یہ حدیث تمہیں نہیں سنائی ہے، میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ اس سے قبل یہ حدیث مجھے سنا چکے ہیں۔ سفیان کہتے ہیں: گویا انہیں اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ تھا۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:486]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا چاہیے، لیکن آج کل بعض لوگوں نے سنت کو چھوڑ کر بدعت کو اختیار کر لیا ہے کہ اللہ اکبر کو چھوڑ کر سلام کے بعد «لا اله الا الله» کا ورد سب مل کر بلند آواز سے کرتے ہیں یا اللہ ھو اللہ ھو کی ضربیں لگانا شروع کر دیتے ہیں یہ قطعی طور پر غیر شرعی کام ہیں، نماز کے مکمل ہونے کے بعد اونچی آواز میں اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔ شیخ ابوعمر عبدالعزیز نورستانی حفطہ اللہ نے اس مسئلہ پرمستقل رسالہ لکھا ہے جو لائق مطالعہ ہے۔ انظر [سلسلة مجموع الرسائل الشيخ نورستاني صفحہ: 400 تا 426]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 486]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1316
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا اختتام یا نماز کی تکمیل، اَللہُ اَکْبَر کہنے سے پہچانتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1316]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ابومعبد نے بعد میں اس حدیث کے سنانے سے انکار کر دیا تھا کہ میں نے تمھیں یہ روایت نہیں سنائی لیکن محدثین کے نزدیک اگر کوئی راوی اپنی روایت کا انکار کرے اور اس سے نقل کرنے والا قابل اعتماد اور ثقہ ہو تو وہ قابل قبول ہے اس لیے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے انکار نقل کرنے کے باوجود روایت بیان کر دی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1316]

Sahih Bukhari Hadith 842 in Urdu