یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب الأكل يوم الفطر قبل الخروج:
باب: عیدالفطر میں نماز کے لیے جانے سے پہلے کچھ کھا لینا۔
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ"، وَقَالَ مُرَجَّى بْنُ رَجَاءٍ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَأْكُلُهُنَّ وِتْرًا.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہ ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نہ نکلتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند کھجوریں نہ کھا لیتے اور مرجی بن رجاء نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر یہی حدیث بیان کی کہ آپ طاق عدد کھجوریں کھاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 953]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک چند کھجوریں تناول نہ فرما لیتے نماز کے لیے نہ جاتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
953
| لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات |
جامع الترمذي |
543
| يفطر على تمرات يوم الفطر قبل أن يخرج إلى المصلى |
سنن ابن ماجه |
1754
| لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم تمرات |
بلوغ المرام |
387
| لا يغدو يوم الفطر حتى ياكل تمرات |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 953 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 953
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ عید الفطر میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں اگر میسر ہوں تو کھا لینا سنت ہے۔
معلوم ہوا کہ عید الفطر میں نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں اگر میسر ہوں تو کھا لینا سنت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 953]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:953
حدیث حاشیہ:
(1)
محدثین نے عید الفطر کے موقع پر نماز سے پہلے کچھ کھانے کی حکمت اس طرح بیان کی ہے کہ جس اللہ کے حکم سے رمضان کے پورے مہینہ میں کھانا پینا بند رہا، آج جب اس کی طرف سے دن میں کھانے کا اذن ملا اور اس میں اس کی رضا اور خوشنودی معلوم ہوئی تو محتاج بندے کی طرح صبح ہوتے ہی اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اہتمام کیا جائے، پھر اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کا انتخاب کرتے تھے کہ کھجور کا ایمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اس مناسبت کا ذکر ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر نماز سے پہلے تین، پانچ یا سات یا اس سے کم و بیش طاق مقدار میں کھجوریں استعمال کرتے تھے۔
(2)
طاق کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے۔
(3)
اگر کھجور میسر نہ ہو تو شربت نوش کرنا بھی صحیح ہے۔
(فتح الباري: 2/ 577-
578)
اگر گھر میں میسر نہ آئے تو راستے میں یا عید گاہ پہنچ کر بھی کھا پی لے۔
بہرحال اس کا ترک ناپسندیدہ عمل ہے۔
(1)
محدثین نے عید الفطر کے موقع پر نماز سے پہلے کچھ کھانے کی حکمت اس طرح بیان کی ہے کہ جس اللہ کے حکم سے رمضان کے پورے مہینہ میں کھانا پینا بند رہا، آج جب اس کی طرف سے دن میں کھانے کا اذن ملا اور اس میں اس کی رضا اور خوشنودی معلوم ہوئی تو محتاج بندے کی طرح صبح ہوتے ہی اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اہتمام کیا جائے، پھر اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کا انتخاب کرتے تھے کہ کھجور کا ایمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے جیسا کہ قرآن کریم میں اس مناسبت کا ذکر ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے موقع پر نماز سے پہلے تین، پانچ یا سات یا اس سے کم و بیش طاق مقدار میں کھجوریں استعمال کرتے تھے۔
(2)
طاق کے استعمال میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے۔
(3)
اگر کھجور میسر نہ ہو تو شربت نوش کرنا بھی صحیح ہے۔
(فتح الباري: 2/ 577-
578)
اگر گھر میں میسر نہ آئے تو راستے میں یا عید گاہ پہنچ کر بھی کھا پی لے۔
بہرحال اس کا ترک ناپسندیدہ عمل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 953]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 387
نماز عیدین کا بیان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کیلئے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے اور طاق عدد میں کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور ایک معلق روایت میں بھی ایسا ہے اور احمد نے موصول روایت میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کھجوروں کو ایک ایک کر کے تناول فرماتے تھے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 387»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کیلئے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرمایا کرتے تھے اور طاق عدد میں کھجوریں کھایا کرتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے اور ایک معلق روایت میں بھی ایسا ہے اور احمد نے موصول روایت میں ذکر کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کھجوروں کو ایک ایک کر کے تناول فرماتے تھے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 387»
تخریج:
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الأكل يوم الفطرقبل الخروج، حديث:953، وأحمد:3 /126، 232، وابن ماجه، الصيام، حديث:1754، وابن خزيمة، حديث:1429.» تشریح:
اس حدیث سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں: 1. نماز عید کے لیے باہر جانا مسنون ہے۔
2.نماز عیدالفطر کے لیے جانے سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھانی مسنون ہیں۔
3. کھجوروں کو ایک ایک کر کے کھانا چاہیے۔
ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ زیادہ کھجوریں منہ میں ٹھونس لی جائیں۔
یہ تہذیب و اخلاق کے منافی ہے۔
اگر کسی کو کھجوریں دستیاب نہ ہو سکیں تو پھر کوئی بھی چیز کھائی جا سکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
4.کھجوروں کو ایک ایک کر کے کھانے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ آدمی حریص و لالچی نہ بنے‘ نیز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے۔
طبی اعتبار سے بھی ایک ایک کو خوب اچھی طرح چبا چبا کر لعاب دہن شامل کر کے نگلنا چاہیے تاکہ نظام انہضام میں معاون و مددگار ثابت ہو۔
«أخرجه البخاري، العيدين، باب الأكل يوم الفطرقبل الخروج، حديث:953، وأحمد:3 /126، 232، وابن ماجه، الصيام، حديث:1754، وابن خزيمة، حديث:1429.»
اس حدیث سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں: 1. نماز عید کے لیے باہر جانا مسنون ہے۔
2.نماز عیدالفطر کے لیے جانے سے پہلے طاق عدد میں کھجوریں کھانی مسنون ہیں۔
3. کھجوروں کو ایک ایک کر کے کھانا چاہیے۔
ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ زیادہ کھجوریں منہ میں ٹھونس لی جائیں۔
یہ تہذیب و اخلاق کے منافی ہے۔
اگر کسی کو کھجوریں دستیاب نہ ہو سکیں تو پھر کوئی بھی چیز کھائی جا سکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
4.کھجوروں کو ایک ایک کر کے کھانے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ آدمی حریص و لالچی نہ بنے‘ نیز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بھی اشارہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر ہی کو پسند کرتا ہے۔
طبی اعتبار سے بھی ایک ایک کو خوب اچھی طرح چبا چبا کر لعاب دہن شامل کر کے نگلنا چاہیے تاکہ نظام انہضام میں معاون و مددگار ثابت ہو۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 387]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1754
عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1754]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1754]
اردو حاشہ:
فائدہ:
عیدالفطر کے لئے روانہ ہو نے سے پہلے کچھ کھا لینا مسنون ہے تا کہ روزے کے ایام سے فرق ہو جائے۔
فائدہ:
عیدالفطر کے لئے روانہ ہو نے سے پہلے کچھ کھا لینا مسنون ہے تا کہ روزے کے ایام سے فرق ہو جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1754]
Sahih Bukhari Hadith 953 in Urdu
عبيد الله بن أبي بكر الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري