🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب موعظة الإمام النساء يوم العيد:
باب: امام کا عید کے دن عورتوں کو نصیحت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 979
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يُصَلُّونَهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ يُخْطَبُ بَعْدُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ مَعَهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا: أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكِ قَالَتِ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ: لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا، نَعَمْ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ: فَتَصَدَّقْنَ، فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ: هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاءٌ أَبِي وَأُمِّي فَيُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِيمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: الْفَتَخُ الْخَوَاتِيمُ الْعِظَامُ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ابن جریج نے کہا کہ حسن بن مسلم نے مجھے خبر دی، انہیں طاؤس نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھنے گیا ہوں۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں الآیہ۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں۔ ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی، حسن کو معلوم نہیں کہ بولنے والی خاتون کون تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ عبدالرزاق نے کہا «فتخ» بڑے (چھلے) کو کہتے ہیں جس کا جاہلیت کے زمانہ میں استعمال تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 979]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں عید الفطر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ شریک ہوا۔ یہ تمام حضرات نماز عید خطبہ سے پہلے پڑھتے، پھر خطبہ دیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا میں اب بھی آپ کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ اپنے ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو بٹھا رہے تھے، پھر آپ صفوں کو چیرتے ہوئے عورتوں کے پاس آئے۔ آپ کے ہمراہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ﴾ [سورة الممتحنة: 12] اے نبی! جب آپ کے پاس اہل ایمان خواتین بیعت کے لیے حاضر ہوں۔۔ پھر جب آپ اس کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم سب اس وعدے پر قائم ہو؟ تو ان عورتوں میں سے صرف ایک عورت نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے علاوہ کسی عورت نے آپ کی بات کا جواب نہ دیا۔ (راویِ حدیث) حسن کہتے ہیں کہ اس عورت کے متعلق علم نہیں وہ کون تھی؟ آپ نے فرمایا: تم صدقہ و خیرات کیا کرو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ تم لاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں! چنانچہ وہ عورتیں اپنی انگوٹھیاں اور چھلے بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ امام عبد الرزاق نے کہا: «الْفَتَخُ» سے مراد بڑی انگوٹھیاں ہیں جن کا عہد جاہلیت میں رواج تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥الحسن بن مسلم الخزاعي
Newالحسن بن مسلم الخزاعي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← الحسن بن مسلم الخزاعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
979
خرج النبي كأني أنظر إليه حين يجلس بيده ثم أقبل يشقهم حتى جاء النساء معه بلال فقال يأيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 979 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 979
حدیث حاشیہ:
اگرچہ عہد نبوی میں عید گاہ کے لیے کوئی عمارت نہیں تھی اور جہاں عیدین کی نماز پڑھی جاتی تھی وہاں کوئی منبر بھی نہیں تھا لیکن اس لفظ فلما فرغ نزل سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بلند جگہ تھی جس پر آپ خطبہ دیتے تھے۔
جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کے سامنے خطبہ دے چکے تو لوگوں نے سمجھا کہ اب خطبہ ختم ہو گیا ہے اور انہیں واپس جانا چاہیے، چنا نچہ لوگ واپسی کے لیے اٹھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے روکا کہ ابھی بیٹھے رہیں۔
کیونکہ آپ عورتوں کو خطبہ دینے جا رہے تھے۔
دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب دینے والی خاتون اسماءبنت یزید تھیں جو اپنی فصاحت وبلاغت کی وجہ سے ''خطیبة النساء'' کے نام سے مشہور تھیں۔
انہیں کی ایک روایت میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف آئے تو میں بھی ان میں موجود تھی۔
آپ نے فرمایا کہ عورتو!تم جہنم کا ایندھن زیادہ بنوگی۔
میں نے آپ کو پکار کر کہا کیونکہ میں آپ کے ساتھ بہت تھی کہ یارسول اللہ! ایسا کیوں ہو گا؟ آپ نے فرمایا اس لیے کہ تم لعن طعن بہت زیادہ کر تی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 979]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:979
حدیث حاشیہ:
اگر عورتیں دور ہوں اور امام کا خطبۂ عید نہ سن سکیں تو آج بھی انہیں الگ نصیحت کی جا سکتی ہے بشرطیکہ کسی قسم کے فساد یا خطرے کا اندیشہ نہ ہو۔
آج کل لاؤڈ سپیکر نے اس مسئلے کو حل کر دیا ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ حضرت عطاء اسے واجب خیال کرتے تھے۔
ان کے علاوہ اور کوئی بھی اس کے وجوب کا قائل نہیں۔
امام نووی ؒ نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے۔
اکثر شارحین نے یہی لکھا ہے کہ عورتیں امام سے دور ہونے کی وجہ سے خطبہ نہ سن سکیں تو امام کو چاہیے کہ وہ دوسرا خطبہ عورتوں کے سامنے دے لیکن عید کا خطبہ تو ایک ہے جس کی پہلے وضاحت ہو چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے بھی خطبے کا لفظ استعمال نہیں کیا، بلکہ موعظة الإمام سے عنوان قائم کیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ امام اگر ضرورت محسوس کرے تو مردوں سے فارغ ہو کر عورتوں کو نصیحت کرے۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 979]

Sahih Bukhari Hadith 979 in Urdu