مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
شب براءت میں گناہوں کی بخشش اور رزق کی فراخی
حدیث نمبر: 45
إن الله عزوجل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ پندرہ (15) شعبان کی رات کو پہلے آسمان کی جانب اترتے ہیں اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ افراد کی بخش دیتے ہیں۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: { «ضعيف» }:
[ضعيف ترمذي، ترمذي 739] ، [ضعيف ابن ماجه، ابن ماجه 1389]
◈ اس روایت کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر سے) غائب پایا (میں نے تلاش کیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد (مدینہ منورہ کے معروف قبرستان) میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرا گمان یہ تھا کہ آ پ کسی (دوسری) بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں .... (باقی حدیث اوپر مذکور ہے)۔
[ضعيف ترمذي، ترمذي 739] ، [ضعيف ابن ماجه، ابن ماجه 1389]
◈ اس روایت کی تفصیل یوں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بستر سے) غائب پایا (میں نے تلاش کیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد (مدینہ منورہ کے معروف قبرستان) میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرا گمان یہ تھا کہ آ پ کسی (دوسری) بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں .... (باقی حدیث اوپر مذکور ہے)۔
الحكم على الحديث:
ضعيف
Majmua Zaeef Ahadith Hadith 45 in Urdu