مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
شب براءت میں گناہوں کی بخشش اور رزق کی فراخی
حدیث نمبر: 46
هل تدرين ما هذه الليلة؟ يعني ليلة النصف من شعبان، قالت: ما فيها يا رسول الله؟ فقال: فيها أن يكتب كل مولود من بني آدم فى هذه السنة، و فيها أن يكتب كل هالك بني آدم فى هذه السنة، و فيها ترفع اعمالهم، و فيها تنزل ارزاقهم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں: ”کیا تم جانتی ہو یہ (یعنی نصف (15) شعبان کی رات)کون سی رات ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس میں کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس رات میں بنی آدم کے اس سال کے پیدا ہونے والے بچوں کے بارے میں لکھا جاتا ہے، اس میں بنی آدم کے اس سال ہر فوت ہونے والے انسان کے متعلق لکھا جاتا ہے، اس میں ان کے اعمال (اللہ کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں اور اس میں ان کا رزق نازل کیا جاتا ہے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: { «ضعيف» }:
اس روایت کے متعلق شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی سند کا علم نہیں ہو سکا، البتہ اس کے متعلق گمان غالب یہی ہے کہ یہ ضعیف ہے۔ [هداية الرواة 1257] ، [مشكاة للألباني 409/1]
اس روایت کے متعلق شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی سند کا علم نہیں ہو سکا، البتہ اس کے متعلق گمان غالب یہی ہے کہ یہ ضعیف ہے۔ [هداية الرواة 1257] ، [مشكاة للألباني 409/1]
الحكم على الحديث:
ضعيف
Majmua Zaeef Ahadith Hadith 46 in Urdu