🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نفل نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
وعن عبد الله بن بريدة رضي الله عنه عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا» .‏‏‏‏أخرجه أبو داود بسند لين وصححه الحاكم وله شاهد ضعيف عن أبي هريرة رضي الله عنه عند أحمد.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر برحق ہے جس نے وتر نہ پڑھے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
ابوداؤد نے اسے کمزور سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے احمد کے نزدیک اس کا شاہد بھی ہے جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب فيمن لم يوتر، حديث:1419، والحاكم:1 /305.* أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه وهذا الحديث مما أنكر عليه، وحديث أبي هريرة أخرجه أحمد:2 /443، وسنده ضعيف جدًا، فيه خليل بن مرة وهو منكر الحديث كما قال البخاري.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1419
الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا
بلوغ المرام
297
الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 297 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 297
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الصلاة، باب فيمن لم يوتر، حديث:1419، والحاكم:1 /305.* أبو المنيب حسن الحديث في غير ما أنكر عليه وهذا الحديث مما أنكر عليه، وحديث أبي هريرة أخرجه أحمد:2 /443، وسنده ضعيف جدًا، فيه خليل بن مرة وهو منكر الحديث كما قال البخاري.»
تشریح:
ہمارے فاضل محقق اور حضرت شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف ہی قرار دیا ہے لیکن الموسوعۃ الحدیثیہ کے محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۱۵ / ۴۴۷‘ و ۳۸ / ۱۲۷‘ ۱۲۸) بہرحال مذکورہ حدیث قابل حجت اور حسن ہونے کے باوجود وتروں کے وجوب پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس حدیث میں مذکور الفاظ سے وتروں کی اہمیت اور تاکید ہی ثابت ہوتی ہے‘ لہٰذا راجح موقف یہی ہے کہ اس حدیث کو تاکید پر محمول کر لیا جائے اور جمہور کے موقف کو اختیار کیا جائے کہ وتر سنت ہیں واجب نہیں جیسا کہ تفصیل حدیث: ۲۹۳ میں گزر چکی ہے۔
راویٔ حدیث:
«عبداللہ بن بریدہ» ان کی کنیت ابوسہل ہے۔
مرو میں منصب قضاء پر فائز رہے۔
مشاہیر اور ثقہ تابعین میں شمار کیے گئے۔
تیسرے طبقہ کے مشاہیر میں سے تھے۔
۱۱۵ ہجری میں مرو ہی میں فوت ہوئے۔
ان کے باپ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے حالات پیچھے گزر چکے ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 297]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1419
جو شخص وتر نہ پڑھے وہ کیسا ہے؟
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وتر حق ہے ۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1419]
1419. اردو حاشیہ: ہم میں سے نہیں کا مطلب ہے، ہماری سنت اور طریقے پر نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1419]