بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
نماز عیدین کا بیان
حدیث نمبر: 388
وعن ابن بريدة عن أبيه رضي الله عنهما قال: كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي. رواه أحمد والترمذي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر کے لئے کچھ نہ کچھ کھائے بغیر نہ نکلتے تھے البتہ عید قربان (عید الاضحی) کے دن جب تک نماز ادا نہ فرما لیتے کچھ تناول نہ فرماتے تھے۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 388]
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، حديث:542، وقال: غريب، وابن حبان (الموارد)، حديث:593، وأحمد:5 /353.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
542
| لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم لا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي |
سنن ابن ماجه |
1756
| لا يخرج يوم الفطر حتى يأكل كان لا يأكل يوم النحر حتى يرجع |
بلوغ المرام |
388
| لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الاضحى حتى يصلي |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 388 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 388
تخریج:
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، حديث:542، وقال: غريب، وابن حبان (الموارد)، حديث:593، وأحمد:5 /353.» تشریح:
1. یہ حدیث بتاتی ہے کہ عید الفطر کے روز نماز سے پہلے کچھ کھانا اور عید قربان کے روز بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے‘ البتہ کھجوروں‘ چھواروں کو مسنون سمجھ کر کھائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔
«أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الأكل يوم الفطر قبل الخروج، حديث:542، وقال: غريب، وابن حبان (الموارد)، حديث:593، وأحمد:5 /353.»
1. یہ حدیث بتاتی ہے کہ عید الفطر کے روز نماز سے پہلے کچھ کھانا اور عید قربان کے روز بغیر کچھ کھائے نماز ادا کرنا سنت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
2. اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں کسی خاص چیز کی ہدایت نہیں ہے‘ البتہ کھجوروں‘ چھواروں کو مسنون سمجھ کر کھائے تو سونے پہ سہاگا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 388]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1756
عیدالفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کہ کچھ کھا نہ لیتے نہیں نکلتے اور عید الاضحی کے دن نہیں کھاتے جب تک کہ (عید گاہ سے) واپس نہ آ جاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1756]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
عید الاضحی کے دن نما ز سے پہلے کھانا نہ کھانا مسنون ہے۔
(2)
عوام اس اجتناب کو روزہ کہہ دیتے ہیں یہ غلط ہے عید کے دن روزہ ر کھنا جائز ہے، نہ نماز عید سے پہلے کھانا کھانے سے اجتنا ب کو روزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
عید الاضحی کے دن نما ز سے پہلے کھانا نہ کھانا مسنون ہے۔
(2)
عوام اس اجتناب کو روزہ کہہ دیتے ہیں یہ غلط ہے عید کے دن روزہ ر کھنا جائز ہے، نہ نماز عید سے پہلے کھانا کھانے سے اجتنا ب کو روزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1756]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 542
عیدالفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینے کا بیان۔
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 542]
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک کھا نہ لیتے نکلتے نہیں تھے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کھاتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 542]
اردو حاشہ:
1؎:
بر صغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کرعید گاہ جاتے ہیں،
اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں،
اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ ”عیدالفطر“ اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں،
جیسے عیدالاضحی میں ”گوشت“،
اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔
1؎:
بر صغیر ہند و پاک کے مسلمانوں نے پتہ نہیں کہاں سے یہ حتمی رواج بنا ڈالا ہے کہ سوئیاں کھا کرعید گاہ جاتے ہیں،
اور آ کر بھی کھاتے کھلاتے ہیں،
اس رواج کی اس حد تک پابندی کی جاتی ہے کہ ”عیدالفطر“ اور سوئیاں لازم ملزوم ہو کر رہ گئے ہیں،
جیسے عیدالاضحی میں ”گوشت“،
اس حد تک پابندی بدعت کے زمرے میں داخل ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 542]
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ، سنن ترمذی 542
سوال: کیا عیدالاضحیٰ کو نماز عید سے پہلے کچھ کھا پی سکتے ہیں؟
جواب: مسنون یہ ہے کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے کچھ کھا کر جایا جائے اور عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا جائے، نماز کے بعد قربانی کی جائے اور اس کا گوشت کھایا جائے، یہ مستحب ہے۔
اگر کوئی عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ کھا پی لے، تو کوئی حرج نہیں۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
❀ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ كَبِدِ أُضْحِيَّتِهِ.» [مسند الإمام أحمد: 352/5، سنن الترمذي: 542، سنن ابن ماجه: 1756، فضائل الأوقات للبيهقي: 215، واللفظ له]
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز کے لیے) نکلتے، تو کچھ کھا پی کر نکلتے تھے اور عید الاضحیٰ کو بغیر کھائے نکلتے، پھر واپس آ کر قربانی کی کلیجی کھاتے تھے۔“ [وسنده حسنٌ]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1426)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2812) نے ”صحیح“، اور امام حاکم رحمہ اللہ (294/1) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«عِنْدِي أَنَّهُ صَحِيحٌ.» [بيان الوهم والإيهام: 356/5]
”میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔“
◈ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذِهِ سُنَّةٌ عَزِيزَةٌ مِنْ طَرِيقِ الرِّوَايَةِ مُسْتَفِيضَةٌ فِي بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ.» [المُستدرك على الصّحيحين، تحت الرقم: 1088]
”یہ سنت روایت کے اعتبار سے عزیز ہے اور (عمل کے اعتبار سے) مسلم علاقوں میں عام ہے۔“
جواب: مسنون یہ ہے کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے کچھ کھا کر جایا جائے اور عید الاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا جائے، نماز کے بعد قربانی کی جائے اور اس کا گوشت کھایا جائے، یہ مستحب ہے۔
اگر کوئی عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے کچھ کھا پی لے، تو کوئی حرج نہیں۔
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
❀ «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ وَلَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ فَيَأْكُلَ مِنْ كَبِدِ أُضْحِيَّتِهِ.» [مسند الإمام أحمد: 352/5، سنن الترمذي: 542، سنن ابن ماجه: 1756، فضائل الأوقات للبيهقي: 215، واللفظ له]
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز کے لیے) نکلتے، تو کچھ کھا پی کر نکلتے تھے اور عید الاضحیٰ کو بغیر کھائے نکلتے، پھر واپس آ کر قربانی کی کلیجی کھاتے تھے۔“ [وسنده حسنٌ]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1426)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (2812) نے ”صحیح“، اور امام حاکم رحمہ اللہ (294/1) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«عِنْدِي أَنَّهُ صَحِيحٌ.» [بيان الوهم والإيهام: 356/5]
”میرے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔“
◈ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«هذِهِ سُنَّةٌ عَزِيزَةٌ مِنْ طَرِيقِ الرِّوَايَةِ مُسْتَفِيضَةٌ فِي بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ.» [المُستدرك على الصّحيحين، تحت الرقم: 1088]
”یہ سنت روایت کے اعتبار سے عزیز ہے اور (عمل کے اعتبار سے) مسلم علاقوں میں عام ہے۔“
[فتاوی امن پوری، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Bulughul Maram Hadith 388 in Urdu