🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. (أحاديث في الزكاة)
(زکوٰۃ کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 498
وعن عتاب بن أسيد رضي الله عنه قال: أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يخرص العنب كما يخرص النخل وتؤخذ زكاته زبيبا. رواه الخمسه،‏‏‏‏ وفيه انقطاع.
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ”ہم انگوروں کا اندازہ بھی اس طرح لگائیں جس طرح کھجوروں کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اس کی زکوٰۃ میں کشمش وصول کی جائے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے مگر اس میں انقطاع ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 498]
«وَعَنْ» اور سے – «عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ» عتاب بن اسید – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «أَمَرَ» حکم دیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنْ يُخْرَصَ» کہ تخمینہ لگایا جائے – «الْعِنَبُ» انگور کا – «كَمَا يُخْرَصُ» جیسے تخمینہ لگایا جاتا ہے – «النَّخْلُ» کھجور کا – «وَتُؤْخَذَ» اور لی جائے – «زَكَاتُهُ» اس کی زکاۃ – «زَبِيبًا» منقیٰ (کی صورت میں)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَفِيهِ» اور اس میں – «انْقِطَاعٌ» انقطاع ہے۔
اور سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ انگور کا اسی طرح تخمینہ لگایا جائے جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے اور اس کی زکاۃ منقیٰ کی صورت میں لی جائے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس (کی سند) میں انقطاع ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 498]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب في خرص العنب، حديث:1603، والترمذي، الزكاة، حديث:644، والنسائي، الزكاة، حديث:2619، وابن ماجه، الزكاة، حديث:18198، وأحمد: ولم أجده، وقال المنذري: "انقطاعه ظاهرلأن مولد سعيد في خلافة عمر و مات عتاب يوم مات أبوبكر".»

الحكم على الحديث:
ضعيف


تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
644
تخرص كما يخرص النخل ثم تؤدى زكاته زبيبا كما تؤدى زكاة النخل تمرا
سنن أبي داود
1603
يخرص العنب كما يخرص النخل وتؤخذ زكاته زبيبا كما تؤخذ زكاة النخل تمرا
سنن ابن ماجه
1819
يبعث على الناس من يخرص كرومهم وثمارهم
بلوغ المرام
498
ان يخرص العنب كما يخرص النخل وتؤخذ زكاته زبيبا
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 498 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 498
فائدہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل بن جاتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [ارواء الغليل: 283، 280/3۔ حديث: 805]
علاوہ ازیں امام نووی رحمہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ اگرچہ یہ حدیث مرسل ہے لیکن ائمہ کا فتویٰ اس کا موید ہے۔ «والله اعلم»

راوی حدیث :
حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ، عتاب پر ”عین“ پر فتحہ اور ”تا“ پر تشدید ہے۔ «اَسيد» کے ”ہمزہ“ پر فتحہ اور ”سین“ کے نیچے کسرہ ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے: عتاب بن اَسید بن ابوعیص بن امیہ بن عبد شمس اموی مکی۔ مشہور صحابی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے بعد حنین کی طرف جانے لگے تو انہیں مکہ پر اپنا عامل مقرر فرمایا۔ اس منصب پر عہد رسالت اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں مامور رہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کی وفات اسی روز ہوئی جس روز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات پائی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری ایام تک زندہ رہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 498]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 644
درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا۔
عتاب بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے جو ان کے انگوروں اور دوسرے پھلوں کا تخمینہ لگاتا تھا۔ اسی سند سے ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکاۃ کے بارے میں فرمایا: ”اس کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا، جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے، پھر کشمش ہو جانے کے بعد اس کی زکاۃ نکالی جائے گی جیسے کھجور کی زکاۃ تمر ہو جانے کے بعد نکالی جاتی ہے۔ (یعنی جب خشک ہو جائیں)“ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 644]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سعید بن المسیب اور عتاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 644]

Bulughul Maram Hadith 498 in Urdu