بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 838
وعن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:«الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأمر، وإذنها سكوتها» . رواه مسلم. وفي لفظ: «ليس للولي مع الثيب أمر واليتيمة تستأمر» . رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شوہر دیدہ عورت اپنے دوبارہ نکاح کے بارے میں اپنے ولی کی بہ نسبت خود زیادہ استحقاق رکھتی ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے گی اور اس کا اذن اس کی خاموشی ہے۔“ (مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ شوہر دیدہ عورت کے بارے میں ولی کا کوئی اختیار نہیں اور یتیم بچیوں سے بھی مشورہ لیا جائے۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 838]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «الثَّيِّبُ» شوہر دیدہ عورت – «أَحَقُّ» زیادہ حقدار ہے – «بِنَفْسِهَا» اپنے آپ کی – «مِنْ وَلِيِّهَا» اپنے ولی سے – «وَالْبِكْرُ» اور کنواری سے – «تُسْتَأْمَرُ» مشورہ لیا جائے – «وَإِذْنُهَا» اور اس کی اجازت – «سُكُوتُهَا» اس کی خاموشی ہے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَفِي لَفْظٍ» اور ایک روایت کے الفاظ میں ہے: – «لَيْسَ» نہیں ہے – «لِلْوَلِيِّ» ولی کے لیے – «مَعَ الثَّيِّبِ» شوہر دیدہ کے ساتھ – «أَمْرٌ» کوئی اختیار – «وَالْيَتِيمَةُ» اور یتیم (بالغ کنواری) لڑکی سے – «تُسْتَأْمَرُ» مشورہ لیا جائے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت اپنے (نکاح کے) بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے مشورہ لیا جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”شوہر دیدہ کے ساتھ ولی کا کوئی اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے مشورہ لیا جائے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 838]
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت اپنے (نکاح کے) بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے مشورہ لیا جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”شوہر دیدہ کے ساتھ ولی کا کوئی اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے مشورہ لیا جائے۔“ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 838]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، النكاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق...، حديث:1421، وأبوداود، النكاح، حديث:2098_2100، والنسائي، النكاح، حديث:3265، وابن حبان (الإحسان):6 /156، حديث:4077.»
الحكم على الحديث:
صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3262
| الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها |
سنن النسائى الصغرى |
3263
| الأيم أحق بنفسها من وليها اليتيمة تستأمر وإذنها صماتها |
سنن النسائى الصغرى |
3264
| الأيم أولى بأمرها اليتيمة تستأمر في نفسها وإذنها صماتها |
سنن النسائى الصغرى |
3265
| ليس للولي مع الثيب أمر اليتيمة تستأمر فصمتها إقرارها |
سنن النسائى الصغرى |
3266
| الثيب أحق بنفسها البكر يستأمرها أبوها وإذنها صماتها |
صحيح مسلم |
3476
| الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها |
صحيح مسلم |
3477
| الثيب أحق بنفسها من وليها البكر تستأمر وإذنها سكوتها |
جامع الترمذي |
1108
| الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها |
سنن أبي داود |
2098
| الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها |
سنن أبي داود |
2100
| ليس للولي مع الثيب أمر اليتيمة تستأمر وصمتها إقرارها |
سنن ابن ماجه |
1870
| الأيم أولى بنفسها من وليها البكر تستأمر في نفسها البكر تستحيي أن تتكلم قال إذنها سكوتها |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
351
| الايم احق بنفسها من وليها، والبكر تستاذن فى نفسها، وإذنها صماتها |
بلوغ المرام |
838
| الثيب أحق بنفسها من وليها ، والبكر تستأمر ، وإذنها سكوتها |
مسندالحميدي |
527
| الثيب أحق بنفسها من وليها والبكر تستأمر في نفسها فصمتها إقرارها |
Bulughul Maram Hadith 838 in Urdu