🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب : استئذان البكر في نفسها
باب: کنواری لڑکی کی شادی کے لیے اس سے اجازت لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3262
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ عورت اپنے ولی (سر پرست) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری (لڑکی) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت (اس سے پوچھے جانے پر) اس کا خاموش رہنا ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 9 (4121)، سنن ابی داود/النکاح 26 (2098، 2099، 2110)، سنن الترمذی/النکاح 18 (1108)، سنن ابن ماجہ/النکاح 11 (1870)، (تحفة الأشراف: 6517)، موطا امام مالک/النکاح 2 (4)، مسند احمد (1/241، 261، 274، 334، 345، 355، 362)، سنن الدارمی/النکاح 13، (2234، 2235، 2236) وانظرالأرقام التالیة (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «أَحَقُّ» کا صیغہ مشارکت کا متقاضی ہے، گویا «ایم» (بیوہ) اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدار ہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدار ہے، یہ اور بات ہے کہ ولی کی بنسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا جب کہ اس کی وجہ سے ولی پر جبر کیا جا سکتا ہے چنانچہ ولی اگر شادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکر ہے تو بواسطہ قاضی اس کا نکاح ہو گا، اس توضیح سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ حدیث «لا نكاح إلا بولي» کے منافی نہیں ہے۔ ۲؎: لیکن اگر منظور نہ ہو تو کھل کر بتا دینا چاہیئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ ماں باپ اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newنافع بن جبير النوفلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فاضل
👤←👥عبد الله بن الفضل القرشي
Newعبد الله بن الفضل القرشي ← نافع بن جبير النوفلي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن الفضل القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3262
الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها
سنن النسائى الصغرى
3263
الأيم أحق بنفسها من وليها اليتيمة تستأمر وإذنها صماتها
سنن النسائى الصغرى
3264
الأيم أولى بأمرها اليتيمة تستأمر في نفسها وإذنها صماتها
سنن النسائى الصغرى
3265
ليس للولي مع الثيب أمر اليتيمة تستأمر فصمتها إقرارها
سنن النسائى الصغرى
3266
الثيب أحق بنفسها البكر يستأمرها أبوها وإذنها صماتها
صحيح مسلم
3476
الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها
صحيح مسلم
3477
الثيب أحق بنفسها من وليها البكر تستأمر وإذنها سكوتها
جامع الترمذي
1108
الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها
سنن أبي داود
2098
الأيم أحق بنفسها من وليها البكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها
سنن أبي داود
2100
ليس للولي مع الثيب أمر اليتيمة تستأمر وصمتها إقرارها
سنن ابن ماجه
1870
الأيم أولى بنفسها من وليها البكر تستأمر في نفسها البكر تستحيي أن تتكلم قال إذنها سكوتها
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
351
الايم احق بنفسها من وليها، والبكر تستاذن فى نفسها، وإذنها صماتها
بلوغ المرام
838
الثيب أحق بنفسها من وليها ،‏‏‏‏ والبكر تستأمر ،‏‏‏‏ وإذنها سكوتها
مسندالحميدي
527
الثيب أحق بنفسها من وليها والبكر تستأمر في نفسها فصمتها إقرارها
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3262 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3262
اردو حاشہ:
(1) بیوہ عورت تفصیل سابقہ حدیث کے فائدے میں دیکھیے۔
(2) کنواری لڑکی اگر چہ عورت کے لیے ولی کی رضا مندی شرط ہے مگر عورت کی اپنی رضا مندی بھی ضروری ہے۔ ولی کی رضا مندی اس کہ لیے عورت جذبات میں آکر ایسی جگہ نہ کر بیٹھے جس میں اولیاء کو عار لاحق ہوتی ہو اور عورت کی رضا مندی اس لیے کہ اس نے ساری زندگی گزارنی ہے۔
(3) خاموش رہنا چونکہ کنواری لڑکی زیاہ شرمیلی ہوتی ہے، ضروری نہیں وہ زبان سے اظہار کرے، لہٰذا اس کا خاموش رہنا بھی جبکہ اس کے سامنے تفصیل کردی جائے، رضا مندی شمار ہوگی، مگر یہ خاموشی خوف اور ناراضی والی نہ ہو۔
(4) اگر کنواری لڑکی زبان سے انکار کردے تو وہاں اس کا نکاح نہیں کیا جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3262]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 351
کنواری کی خاموشی اس کی طرف سے اجازت ہے
«. . . 381- مالك عن عبد الله بن الفضل عن نافع بن جبير بن مطعم عن عبد الله ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الأيم أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأذن فى نفسها، وإذنها صماتها. . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت کنواری نہ ہو تو وہ اپنے ولی کی نسبت زیادہ بااختیار ہے اور کنواری لڑکی سے (شادی کی) اجازت مانگی جاتی ہے اور اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔ . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 351]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 1421، من حديث ما لك به]

تفقه:
➊ جس عورت کا خاوند مر جائے یا وہ طلاق شدہ ہو تو نکاح کے وقت اس کی زبانی اجازت ضروری ہے، اس کا صرف خاموش رہنا کافی نہیں ہے۔
➋ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے۔
● سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی عورت اپنے ولی صاحب رائے رشتہ دار یا سلطان کے بغیر نکاح نہ کرے [السنن الكبريٰ للبيهقي 111/7، وسنده قوي، روايته سعيد بن المسيب عن عمر رضي الله عنه قوي و باقي السند صحيح]
● سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جوعورت ولی کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے، ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ [السنن الكبريٰ للبيهقي 111/7، وقال: هذا اسناده صحيح، وسند حسن، روايته سفيان الثوري عن سلامته بن كهيل قويته و باقي السند صحيح]
● رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «أيما امرأة تزوجت بغير إذن وليها فنكاحها باطل۔۔۔» جو عورت بھی ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ [منتقيٰ ابن الجارود 235 حديث: 700 وسنده حسن، المستدرك للحاكم 168/2 ح 2707]
◄ اس حدیث میں سلیمان بن موسیٰ راوی جمہور کے نزدیک ثقہ صدوق ہیں لہٰذا حسن الحدیث ہیں۔ دیکھئے میری کتاب نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام (ص 23-25)
➌ بعض اوقات خاموشی بھی بیان ہوتا ہے إلا یہ کہ کوئی قرینہ اس کی تخصیص کر دے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 381]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3265
کنواری لڑکی کی شادی کے لیے اس سے اجازت لینے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوہ (غیر کنواری) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور «یتیمہ» کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ (و اجازت) لی جائے گی، اور (جواباً) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3265]
اردو حاشہ:
ولی کو اختیار نہیں یعنی ولی کو رکاوٹ ڈالنے کا اختیار نہیں بلکہ وہ بیوہ کی بات کو ترجیح دے۔ یہ اس حدیث کے صحیح معنیٰ ہیں جو دیگر احادیث سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3265]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2100
ثیبہ (غیر کنواری عورت) کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2100]
فوائد ومسائل:
بیوہ جہاں کا عندیہ دے، ولی کے لئے وہیں نکاح کرنا زیادہ مستحسن ہے بشرطیکہ کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2100]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1870
کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری عورت سے نکاح کے سلسلے میں اجازت طلب کی جائے گی، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کنواری بولنے سے شرم کرے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1870]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہاں (أَیًِم)
سے مراد وہ عورت ہے جس کا پہلے نکاح ہوا تھا، پھر خاوند سے جدائی ہو گئی خواہ خاوند کی وفات کی وجہ سے ہو یا طلاق کی وجہ سے یعنی اس لفظ سے بیوہ اور طلاق یافتہ دونوں مراد ہیں۔
دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔

(2)
نکاح میں لڑکی کی رضامندی بھی ملحوظ رکھی جائے اور سرپرست کی اجازت بھی ضروری ہے۔

(3)
کنواری لڑکی اگر شرم و حیا کی وجہ سے بول کر رضامندی ظاہر نہ کرسکے تو اس کی خاموشی کو رضامندی تصور کر لیا جائے گا، بشرطیکہ دوسرے قرائن سے محسوس نہ ہو کہ یہ خاموشی ناراضی کی وجہ سے ہے۔

(4)
بیوہ یا مطلقہ کی اجازت واضح طور پر کلام کے ذریعے سے ہونا ضروری ہے اس کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لینا کافی نہیں۔

(5)
بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کو چاہیے کہ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ کسی مناسب جگہ نکاح کر لے۔
اس کے سرپرست کو بھی چاہیے کہ دوسرا نکاح کرنے میں اس سے تعاون کرے۔
بے نکاح بیٹھ رہنا درست نہیں الا یہ کہ عمر اتنی زیادہ ہو گئی ہو کہ دوسرا نکاح کرنا مشکل ہو ....یا کوئی اور رکاوٹ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1870]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1108
کنواری اور ثیبہ (شوہر دیدہ) سے اجازت لینے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ «ثیبہ» (شوہر دیدہ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1108]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
لفظ أحق مشارکت کا متقاضی ہے،
گویا غیرکنواری عورت اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدارہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدارہے یہ اوربات ہے کہ ولی کی نسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبرنہیں کیا جا سکتا جب کہ خود اس کی وجہ سے ولی پر جبرکیا جاسکتا ہے،
چنانچہ ولی اگرشادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکرہے تو بواسطہ قاضی (حاکم) اس کا نکاح ہوگا،
اس توضیح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ حدیث لانكاح إلا بولي کے منافی نہیں ہے۔

2؎:
اوراگرمنظورنہ ہوتوکھل کربتادینا چاہئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ والدین اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1108]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:527
527- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ثبیہ عورت اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی، اس کی خاموشی اس کا اقرار ہوگی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:527]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ والدین اپنی بیٹی کی جس شخص سے شادی کروانا چاہیں، پہلے وہ اپنی بیٹی سے مشورہ کریں گے، بیٹی کی بغیر مشورہ کے شادی کرنا درست نہیں ہے، کنواری کی رضامندی اس کا خاموش رہنا ہے، جبکہ شادی شدہ بول کر اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گی۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم (یعنی بالغ لڑکی) سے اس کے نکاح کے متعلق پوچھا جائے گا، اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو پھر زبردستی اس کا نکاح کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [سنن ابي داؤد: 2093 سنن الترمذي يه حديث صحيح هے]
اس حدیث کا ہرگز یہ مفہوم نہیں ہے کہ شادی شدہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے اپنے ولی کے بغیر شادی کرواتی پھرے، بلکہ ولی کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں ہے، خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 527]