پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(نکاح کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 839
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول صلى الله عليه وآله وسلم: «لا تزوج المرأة المرأة، ولا تزوج المرأة نفسها» . رواه ابن ماجه والدارقطني، ورجاله ثقات.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہ کوئی عورت دوسری عورت کا (ولی بن کر) نکاح کرے اور نہ خود اپنا نکاح کرے۔“ اسے ابن ماجہ اور دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، النكاح، باب لا نكاح إلا بولي، حديث:1882، والدارقطني:3 /227، وللحديث شواهد عند البيهقي:7 /110 وغيره.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1882
| لا تزوج المرأة المرأة لا تزوج المرأة نفسها فإن الزانية هي التي تزوج نفسها |
بلوغ المرام |
839
| لا تزوج المرأة المرأة ، ولا تزوج المرأة نفسها |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 839 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 839
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، النكاح، باب لا نكاح إلا بولي، حديث:1882، والدارقطني:3 /227، وللحديث شواهد عند البيهقي:7 /110 وغيره.» تشریح:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کی ولی نہیں بن سکتی‘ اور نہ خود ولی بن کر اپنا نکاح کرنے کی مجاز ہے۔
جمہور علماء کی رائے یہی ہے۔
مگر احناف کہتے ہیں کہ عاقلہ بالغہ خاتون اپنا بھی اور اپنی نابالغہ بچی کا بھی نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے کی وکیل نکاح بھی بن سکتی ہے‘ البتہ اگر کہیں غیرکفو سے نکاح کر لے تو ولی کو دخل اندازی کا اختیار ہے۔
اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صرف کم ذات عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے‘ کسی معزز خاتون کے لیے یہ جائز نہیں‘ مگر اس کے بارے میں جمہور علماء کی رائے مضبوط ہے۔
(سبل السلام)
«أخرجه ابن ماجه، النكاح، باب لا نكاح إلا بولي، حديث:1882، والدارقطني:3 /227، وللحديث شواهد عند البيهقي:7 /110 وغيره.»
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی عورت کسی دوسری عورت کی ولی نہیں بن سکتی‘ اور نہ خود ولی بن کر اپنا نکاح کرنے کی مجاز ہے۔
جمہور علماء کی رائے یہی ہے۔
مگر احناف کہتے ہیں کہ عاقلہ بالغہ خاتون اپنا بھی اور اپنی نابالغہ بچی کا بھی نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے کی وکیل نکاح بھی بن سکتی ہے‘ البتہ اگر کہیں غیرکفو سے نکاح کر لے تو ولی کو دخل اندازی کا اختیار ہے۔
اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صرف کم ذات عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے‘ کسی معزز خاتون کے لیے یہ جائز نہیں‘ مگر اس کے بارے میں جمہور علماء کی رائے مضبوط ہے۔
(سبل السلام)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 839]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1882
بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1882]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1882]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح میں عورت ولی (سرپرست)
نہیں بن سکتی۔
(2)
بغیر ولی کے عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح میں عورت ولی (سرپرست)
نہیں بن سکتی۔
(2)
بغیر ولی کے عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1882]
Bulughul Maram Hadith 839 in Urdu