بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (أحاديث في النكاح)
(نکاح کے متعلق احادیث)
حدیث نمبر: 840
وعن نافع عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الشغار، والشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته، وليس بينهما صداق.متفق عليه، واتفقا من وجه آخر على أن تفسير الشغار من كلام نافع.
سیدنا نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے اور شغار کی تعریف یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیٹی دوسرے آدمی سے اس شرط پر بیاہ دے کہ وہ اپنی بیٹی اس سے بیاہ دے گا اور دونوں کا کوئی مہر مقرر نہ ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور بخاری اور مسلم اس پر متفق ہیں کہ شغار کی یہ تعریف نافع کی بیان کردہ ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 840]
«وَعَنْ» اور سے – «نَافِعٍ» نافع – «عَنِ ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنِ الشِّغَارِ» شغار سے – «وَالشِّغَارُ» اور شغار (یہ ہے) – «أَنْ يُزَوِّجَ» کہ نکاح کر دے – «الرَّجُلُ» آدمی – «ابْنَتَهُ» اپنی بیٹی کا – «عَلَى أَنْ» اس شرط پر کہ – «يُزَوِّجَهُ» اس سے نکاح کر دے – «الْآخَرُ» دوسرا – «ابْنَتَهُ» اپنی بیٹی کا – «وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا» اور ان دونوں کے درمیان نہ ہو – «صَدَاقٌ» کوئی مہر۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «وَاتَّفَقَا» اور دونوں نے اتفاق کیا – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے – «عَلَى أَنَّ» اس پر کہ – «تَفْسِيرَ الشِّغَارِ» شغار کی تفسیر – «مِنْ كَلَامِ نَافِعٍ» نافع کے کلام میں سے ہے۔
اور نافع رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح (کسی سے) اس شرط پر کر دے کہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے اور ان کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور دونوں نے ایک دوسری سند سے اس پر اتفاق کیا ہے کہ شغار کی یہ تفسیر نافع کا کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 840]
اور نافع رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح (کسی سے) اس شرط پر کر دے کہ دوسرا اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دے اور ان کے درمیان کوئی مہر نہ ہو۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور دونوں نے ایک دوسری سند سے اس پر اتفاق کیا ہے کہ شغار کی یہ تفسیر نافع کا کلام ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 840]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الشغار، حديث:5112، ومسلم، النكاح، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانه، حديث:1415.»
الحكم على الحديث:
صحيح
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5112
| الشغار الشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته ليس بينهما صداق |
صحيح البخاري |
6960
| الشغار |
صحيح مسلم |
3468
| لا شغار في الإسلام |
صحيح مسلم |
3465
| نهى عن الشغار والشغار أن يزوج الرجل ابنته على أن يزوجه ابنته وليس بينهما صداق |
صحيح مسلم |
3467
| الشغار |
جامع الترمذي |
1124
| الشغار |
سنن أبي داود |
2074
| الشغار |
سنن النسائى الصغرى |
3336
| الشغار |
سنن النسائى الصغرى |
3339
| الشغار |
سنن ابن ماجه |
1883
| نهى رسول الله عن الشغار والشغار أن يقول الرجل للرجل زوجني ابنتك أو أختك على أن أزوجك ابنتي أو أختي وليس بينهما صداق |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
355
| نهى عن الشغار. والشغار ان يزوج الرجل ابنته الرجل على ان يزوجه الرجل الآخر ابنته، ليس بينهما صداق |
بلوغ المرام |
840
| نهى رسول الله عن الشغار، والشغار ان يزوج الرجل ابنته على ان يزوجه الآخر ابنته |
Bulughul Maram Hadith 840 in Urdu