یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب أى الحج أفضل:
حج میں کون سا عمل افضل ہے؟
حدیث نمبر: 1835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الْعَجُّ وَالثَّجُّ". الْعَجُّ يَعْنِي: التَّلْبِيَةَ، وَالثَّجُّ يَعْنِي: إِهْرَاقَ الدَّمِ.
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: حج کون سا افضل ہے؟ (یعنی حج میں کون سا عمل سب سے اچھا ہے)، فرمایا: ” «عج» اور «ثج» “ «عج» سے مراد تلبیہ اور «ثج» سے مراد قربانی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1835]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن الترمذي قال: ((لم يسمع محمد بن المنكدر من عبد الرحمن بن يربوع))، [مكتبه الشامله نمبر: 1838] »
اس روایت کی یہ سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 827] ، [ابن ماجه 2924] ، [ابن خزيمه 2631] ، [أبويعلی 117] ، [الحاكم 450/1] ، [بيهقي 42/5]
اس روایت کی یہ سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 827] ، [ابن ماجه 2924] ، [ابن خزيمه 2631] ، [أبويعلی 117] ، [الحاكم 450/1] ، [بيهقي 42/5]
وضاحت: (تشریح حدیث 1834)
یعنی حج کے اعمال میں بآوازِ بلند کثرت سے تلبیہ پکارنا اور قربانی کرنا افضل ہے، اس لئے ان دونوں کاموں کو پوری رغبت، خلوص اور انتہائی توجہ سے کرنا چاہیے۔
یعنی حج کے اعمال میں بآوازِ بلند کثرت سے تلبیہ پکارنا اور قربانی کرنا افضل ہے، اس لئے ان دونوں کاموں کو پوری رغبت، خلوص اور انتہائی توجہ سے کرنا چاہیے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 1835 in Urdu
عبد الرحمن بن سعيد القرشي ← أبو بكر الصديق