🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب ما قيل فى المسكر:
نشہ آور چیزوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2135
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: "اشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، فَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کیا تو فرمایا: کچھ بھی پیو بس نشہ آور نہ پیو کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2143] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4343] ، [مسلم 1733] ، [أبوداؤد 4356] ، [نسائي 6511] ، [ابن ماجه 3391] ، [أبويعلی 7339] ، [ابن حبان 5373] ، [منحة المعبود 1724]
وضاحت: (تشریح حدیث 2134)
نسائی کی روایت (5602) میں ہے: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ہمیں ایسی سرزمین پر بھیج رہے ہیں جہاں لوگ کثرت سے شراب پیتے ہیں، تو ہم کیا پئیں؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ بھی پینا لیکن جو نشہ لائے وہ نہ پینا۔
اس کا مطلب ہے نبیذ انگور اور کھجور کا شربت وغیرہ جب تک کہ وہ نشہ آور نہ ہو پی سکتے ہیں۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة