سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب الاقتداء بالعلماء:
علماء کی اقتداء کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 233
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الزَّهْرَانِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:"أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا بِمَكَانِي هَذَا، فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي الْيَوْمَ فَوَعَاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ وَلَا فِقْهَ لَهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ، فِي هَذَا الشَّهْرِ، فِي هَذَا الْبَلَدِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْقُلُوبَ لَا تُغِلُّ عَلَى ثَلَاثٍ: إِخْلَاصِ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةِ أُولِي الْأَمْرِ، وَعَلَى لُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ".
محمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ میں سنا: ”اے لوگو! بیشک میں نہیں جانتا کہ آج کے بعد اس مقام پر پھر تم سے ملاقات کر سکوں گا، پس اللہ تعالیٰ رحم کرے اس شخص پر جس نے آج میری بات سنی اور اسے یاد کر لیا، کچھ فقہ کو سیکھنے والے (خود فقیہ نہیں) جان نہیں پاتے، اور بہت سے حامل فقہ لیجاتے ہیں فقہ کو اپنے سے زیادہ فقیہ کے پاس۔ اور اے لوگو! جان لو کہ تمہارے مال اور خون آج کے دن کی، اس مہینے، اور اس شہر کی حرمت کی طرح ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ اور سنو! دل تین چیزوں پر خیانت نہ کریں گے، اللہ کے لئے عمل خالص، حکام کے ساتھ خیر خواہی، اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے میں، بیشک ان کی دعا ان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ (یعنی دعا آفات وبلیات سے حفاظت کے لیے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔)“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن والحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 233] »
اس حدیث کی سند حسن اور متن صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1739] ، [مسلم 1218] ، [أبويعلی 7413] ، [مجمع الزوائد 598] ، [المحدث الفاصل 3، 4]
اس حدیث کی سند حسن اور متن صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1739] ، [مسلم 1218] ، [أبويعلی 7413] ، [مجمع الزوائد 598] ، [المحدث الفاصل 3، 4]
وضاحت: (تشریح حدیث 232)
اس میں اہلِ حدیث کے لئے دعائے خیر ہے۔
علامہ بدیع الزماں نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقہ نام ہے حدیث کا، اس کی جانکاری اور تحقیق سے آدمی عند الله فقیہ ہوتا ہے، اور بشارت ہے اس میں کہ بعد زمانۂ صحابہ کے تابعین میں بکثرت فقہاء ہوں گے اور احادیث جمع کریں گے۔
دیکھئے شرح آگے آنے والی حدیث «نَضَّرَ اللّٰهُ إِمْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا.»
اس میں اہلِ حدیث کے لئے دعائے خیر ہے۔
علامہ بدیع الزماں نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقہ نام ہے حدیث کا، اس کی جانکاری اور تحقیق سے آدمی عند الله فقیہ ہوتا ہے، اور بشارت ہے اس میں کہ بعد زمانۂ صحابہ کے تابعین میں بکثرت فقہاء ہوں گے اور احادیث جمع کریں گے۔
دیکھئے شرح آگے آنے والی حدیث «نَضَّرَ اللّٰهُ إِمْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَيْئًا.»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3056
| نضر الله امرأ سمع مقالتي فبلغها رب حامل فقه غير فقيه رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ثلاث لا يغل عليهن قلب مؤمن إخلاص العمل لله النصيحة لولاة المسلمين لزوم جماعتهم فإن دعوتهم تحيط من ورائهم |
سنن ابن ماجه |
231
| نضر الله امرأ سمع مقالتي فبلغها رب حامل فقه غير فقيه رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه |
سنن الدارمي |
234
| نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها ثم أداها إلى من لم يسمعها رب حامل فقه لا فقه له رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه ثلاث لا يغل عليهن قلب المؤمن إخلاص العمل لله طاعة ذوي الأمر لزوم الجماعة فإن دعوتهم تكون من ورائهم |
سنن الدارمي |
233
| رحم الله من سمع مقالتي اليوم فوعاها رب حامل فقه ولا فقه له رب حامل فقه إلى من هو أفقه منه اعلموا أن أموالكم ودماءكم حرام عليكم كحرمة هذا اليوم في هذا الشهر في هذا البلد اعلموا أن القلوب لا تغل على ثلاث إخلاص العمل لله مناصحة أولي الأمر |
Sunan Darmi Hadith 233 in Urdu
محمد بن جبير القرشي ← جبير بن مطعم القرشي