سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب فى ميراث ذوي الأرحام:
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3010
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: "اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور رسول اس کے والی ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 3020] »
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں، ابن جریج کا عنعنہ اس میں قادح ہے لیکن مصنف عبدالرزاق میں سماع کی صراحت ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [ترمذي 2103] ، [ابن ماجه 2737] ، [عبدالرزاق 19124] ، [ابن حبان 6035] ، [موارد الظمآن 1225] ، [ابن منصور 171] ، [البيهقي 215/6] ۔ کچھ روایات میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے جیسا کہ ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی میں صراحت ہے۔
اس حدیث کے رجال ثقات ہیں، ابن جریج کا عنعنہ اس میں قادح ہے لیکن مصنف عبدالرزاق میں سماع کی صراحت ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [ترمذي 2103] ، [ابن ماجه 2737] ، [عبدالرزاق 19124] ، [ابن حبان 6035] ، [موارد الظمآن 1225] ، [ابن منصور 171] ، [البيهقي 215/6] ۔ کچھ روایات میں یہ حدیث مرفوعاً مروی ہے جیسا کہ ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی میں صراحت ہے۔
الرواة الحديث:
طاوس بن كيسان اليماني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق