🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب ميراث الغرقى:
پانی میں ڈوبنے والوں کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3081
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُرَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ:"أَنَّهُ وَرَّثَ أَخَوَيْنِ قُتِلَا بِصِفِّينَ، أَحَدَهُمَا مِنْ الْآخَرِ".
ابوحریش نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دو بھائیوں کو جو جنگ صفین میں وفات پا گئے تھے، ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف أبو حريس ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 3091] »
اس روایت میں ابوحریش مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھے: [البخاري فى الكبير 132/3] ، [ابن أبى شيبه 11391] ، [عبدالرزاق 19152]
وضاحت: (تشریح احادیث 3079 سے 3081)
اوپر تفصیل گذر چکی ہے کہ جن کی موت کسی حادثے میں ہوئی ہو اور تقدیم و تأخیر کا علم نہ ہو تو مرنے والے ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے، اور وارثین ہی کے درمیان میراث ہوگی، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے مذکورہ آ ثار کی سند ان تک صحیح نہیں ہے، اور اگر صحیح مان بھی لی جائے تو کہا جائے گا کہ ان کو شاید مرنے والوں کی موت میں تقدیم و تأخیر کا علم تھا اس لئے انہوں نے ایک دوسرے کو وارث قرار دیا۔
والله اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥أبو حريش، أبو حريش
Newأبو حريش ← علي بن أبي طالب الهاشمي
مجهول
👤←👥حريش بن أبي حريش الجعفي، أبو سعيد
Newحريش بن أبي حريش الجعفي ← أبو حريش
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← حريش بن أبي حريش الجعفي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت