🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب: إن الله يرفع بهذا القرآن أقواما ويضع به آخرين :
اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعہ بعض قوموں کو اٹھائے گا اور بعض کو گرا دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3397
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ: أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَنْ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ فَقَالَ نَافِعٌ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى، فَقَالَ عُمَرُ: وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى؟ فَقَالَ: مَوْلًى مِنْ مَوَالِينَا، فَقَالَ عُمَرُ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ".
عامر بن واثلہ نے بیان کیا کہ نافع بن عبدالحارث عسفان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملے جن کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ پر حاکم مقرر کیا تھا، (امیر المومنین) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اہل وادی (مکہ والوں) پر کس کو اپنا نائب مقرر کیا؟ نافع نے کہا: میں نے ان پر ابن ابزی کو اپنا نائب بنا دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابزی کون ہیں؟ عرض کیا: وہ ہمارے آزاد کردہ غلاموں میں سے ایک آزاد کئے ہوئے غلام ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان پر مولی کو خلیفہ بنا دیا، انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! وہ قرآن کے قاری اور فرائض کے عالم ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بہت سی قوموں کو اس قرآن کی برکت سے بلند کرے گا اور دوسروں کو زیر کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3397]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3408] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 817] ، [ابن ماجه 218] ، [أبويعلی 210] ، [ابن حبان 772] ، [طحاوي فى مشكل الآثار 57/3] ، [عبدالرزاق 20943] ، [أبوالفضل الرازي فى فضائل القرآن 63]
وضاحت: (تشریح حدیث 3396)
مطلب یہ ہے کہ جو اس قرآن کے تابع فرمان ہوں گے دنیا میں حکومت اور آخرت میں جنّت پائیں گے، اور جو منکر ہوں گے دنیا میں ذلت اور آخرت میں عقوبت اٹھائیں گے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سو فیصد صحیح ثابت ہوا، عرب کی وہ قوم جن میں چند پڑھے لکھے لوگ تھے لیکن صدیوں دنیا کے ایک معتد بہ حصہ پر حکومت کرتے رہے، اللہ تعالیٰ نے موالی اور غلاموں کو بھی اسلام میں داخل ہونے کے بعد سر بلندی عطا ء کی، سیدنا بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا مقام وہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جنّت میں اپنے آگے ان کی آہٹ سنتے ہیں، اسی طرح یہ آزاد کردہ غلام ابن ابزی ہیں جو قرآن پاک کی وجہ سے اہلِ مکہ کے حاکم بنتے ہیں۔
«اَللّٰهُمَّ انْفَعْنَا بِكِتَابِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ.» آمین۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عامر بن واثلة الليثي، أبو الطفيل
Newعامر بن واثلة الليثي ← عمر بن الخطاب العدوي
له إدراك
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عامر بن واثلة الليثي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر
Newشعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ متقن
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان
Newالحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي
ثقة ثبت