سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب إذا اختلطت على المرأة أيام حيضها فى أيام استحاضتها:
عورت کے حیض اور استحاضہ کے ایام گڈمڈ ہو جائیں تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَ وَهْبٌ: أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، وَإِنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ، فَأَمَرَهَا "أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّيَ".
ابوسلمہ سے مروی ہے ام حبیبہ نے کہا: وہب نے ذکر کیا کہ ام حبیبہ بنت جحش کو خون آتا رہتا تھا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے حکم فرمایا: ”ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز پڑھیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه، [مكتبه الشامله نمبر: 935] »
اس روایت کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 293] و [بيهقي 351/1]
اس روایت کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 293] و [بيهقي 351/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 914 سے 931)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کے تحت لکھا ہے: اگر طاقت ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کرے گی، اور اگر مشقت کی وجہ سے پریشان ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لے گی۔
ان مختلف روایات کا یہی حل ہے۔
والله اعلم۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کے تحت لکھا ہے: اگر طاقت ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کرے گی، اور اگر مشقت کی وجہ سے پریشان ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لے گی۔
ان مختلف روایات کا یہی حل ہے۔
والله اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل | |
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر هشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي | ثقة ثبت وقد رمي بالقدر | |
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن وهب بن جرير الأزدي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← وهب بن جرير الأزدي | ثقة متقن |
يحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري