صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب القراءة في الظهر والعصر:
باب: ظہر اور عصر کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 452 ترقیم شاملہ: -- 1015
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ، قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، أَوَ قَالَ: نِصْفَ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ، فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِك".
ابوعوانہ نے منصور سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قراءت فرماتے تھے اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا: اس (پہلی دو) سے نصف۔ اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر اور آخری دو میں اس سے نصف۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1015]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے بقدر قرأت فرماتے تھے، اور آخری دو میں پندرہ آیتوں کے بقدر یا یہ کہا کہ پہلی دو سے نصف اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ہر رکعت میں پندرہ آیتوں کے برابر آخری دو میں اس سے نصف۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1015]
ترقیم فوادعبدالباقی: 452
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1015 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1015
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ظہر کی قراءت فجر کی قراءت کی طرح لمبی ہے اور عصر کی قراءت ظہر سے کم ہے اور جن حدیثوں میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت اور فجر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تو اس کیوجہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے دعائے استفتاح اس وجہ سے وہ لمبی ہو جاتی ہے اگرچہ قراءت دونوں میں یکساں ہے۔
فوائد ومسائل:
ظہر کی قراءت فجر کی قراءت کی طرح لمبی ہے اور عصر کی قراءت ظہر سے کم ہے اور جن حدیثوں میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت اور فجر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تو اس کیوجہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے دعائے استفتاح اس وجہ سے وہ لمبی ہو جاتی ہے اگرچہ قراءت دونوں میں یکساں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1015]
بكر بن قيس الناجي ← أبو سعيد الخدري