صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
37. باب امر الائمة بتخفيف الصلاة في تمام:
باب: اماموں کے لیے نماز کو پورا اور تخفیف کرنے کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 468 ترقیم شاملہ: -- 1050
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: أُمَّ قَوْمَكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا، قَالَ: ادْنُهْ، فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ: تَحَوَّلْ، فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ: أُمَّ قَوْمَكَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِنَّ فِيهِمُ ذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ ".
موسیٰ بن طلحہ نے کہا: مجھے حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”میرے قریب ہو جاؤ۔“ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر اپنی ہتھیلی میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی، اس کے بعد فرمایا: ”رخ پھیرو۔“ اس کے بعد آپ نے ہتھیلی میری پشت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے، وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں، ان میں بیمار ہوتے ہیں، ان میں کمزور ہوتے ہیں اور ان میں ضرورت مند ہوتے ہیں، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1050]
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ۔“ میں نے عرض کیا ”مجھے کچھ جھجک محسوس ہوتی ہے،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر میرے پستانوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: ”پھر جا۔“ پھرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی میری پشت پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: ”اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے وہ نماز میں تخفیف کرے، کیونکہ ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ان میں بیمار بھی ہوتے ہیں، ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں۔ اور ان میں ضرورت مند بھی ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 468
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1050
| من أم قوما فليخفف فإن فيهم الكبير وإن فيهم المريض وإن فيهم الضعيف وإن فيهم ذا الحاجة وإذا صلى أ |
صحيح مسلم |
1051
| إذا أممت قوما فأخف بهم الصلاة |
سنن ابن ماجه |
988
| إذا أممت قوما فأخف بهم |
سنن ابن ماجه |
987
| تجاوز في الصلاة واقدر الناس بأضعفهم فإن فيهم الكبير والصغير والسقيم والبعيد وذا الحاجة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1050 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1050
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
(أَنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي)
کے علماء نے مختلف مفہوم مراد لیے ہیں:
1۔
میں امام بن کر عجب اورتکبر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہوں۔
2۔
میں شرم وحیا اور اس کام کی ادائیگی میں کمزوری محسوس کرتا ہوں۔
3۔
میں نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں،
اور اس کی تائید میں عثمان ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے۔
جس میں یہ آیا ہے،
میں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شیطان میری نماز میں حرج ڈال دیتا ہے،
مجھے قرآن پڑھتے بھلا دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت سے ان کی یہ خرابی دور ہو گئی۔
2۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے نماز میں سب لوگوں کو شریک ہونا چاہیے اپنی کمزوری بیماری یا ضرورت کو جماعت سے پیچھے رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے اور امام کو بھی اپنے مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
1۔
(أَنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي)
کے علماء نے مختلف مفہوم مراد لیے ہیں:
1۔
میں امام بن کر عجب اورتکبر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہوں۔
2۔
میں شرم وحیا اور اس کام کی ادائیگی میں کمزوری محسوس کرتا ہوں۔
3۔
میں نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں،
اور اس کی تائید میں عثمان ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے۔
جس میں یہ آیا ہے،
میں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شیطان میری نماز میں حرج ڈال دیتا ہے،
مجھے قرآن پڑھتے بھلا دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت سے ان کی یہ خرابی دور ہو گئی۔
2۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے نماز میں سب لوگوں کو شریک ہونا چاہیے اپنی کمزوری بیماری یا ضرورت کو جماعت سے پیچھے رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے اور امام کو بھی اپنے مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1050]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1051
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آخری وصیت اور تلقین یہ فرمائی تھی، ”جب لوگوں کی امامت کرو تو اس میں تخفیف کا خیال رکھنا (نماز ہلکی پڑھانا)۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1051]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عَهِدَ إِلَيْهِ:
(س)
اس کو وصیت وتلقین کی۔
مفردات الحدیث:
عَهِدَ إِلَيْهِ:
(س)
اس کو وصیت وتلقین کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1051]
موسى بن طلحة القرشي ← عثمان بن أبي العاص الثقفي