Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب امر الائمة بتخفيف الصلاة في تمام:
باب: اماموں کے لیے نماز کو پورا اور تخفیف کرنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 468 ترقیم شاملہ: -- 1050
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: أُمَّ قَوْمَكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا، قَالَ: ادْنُهْ، فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ: تَحَوَّلْ، فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ: أُمَّ قَوْمَكَ، فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا، فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ، وَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَإِنَّ فِيهِمُ ذَا الْحَاجَةِ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَحْدَهُ، فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ ".
موسیٰ بن طلحہ نے کہا: مجھے حضرت عثمان بن ابی عاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنی قوم کی امامت کراؤ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ۔ آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر اپنی ہتھیلی میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی، اس کے بعد فرمایا: رخ پھیرو۔ اس کے بعد آپ نے ہتھیلی میری پشت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے، وہ تخفیف کرے کیونکہ ان میں بوڑھے ہوتے ہیں، ان میں بیمار ہوتے ہیں، ان میں کمزور ہوتے ہیں اور ان میں ضرورت مند ہوتے ہیں، جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1050]
حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قوم کی امامت کراؤ۔ میں نے عرض کیا مجھے کچھ جھجک محسوس ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر میرے پستانوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: پھر جا۔ پھرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی میری پشت پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، پھر فرمایا: اپنی قوم کی امامت کراؤ اور جو لوگوں کا امام بنے وہ نماز میں تخفیف کرے، کیونکہ ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ان میں بیمار بھی ہوتے ہیں، ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں۔ اور ان میں ضرورت مند بھی ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی اکیلا پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 468
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن أبي العاص الثقفي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥موسى بن طلحة القرشي، أبو محمد، أبو عيسى
Newموسى بن طلحة القرشي ← عثمان بن أبي العاص الثقفي
ثقة
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو سعيد
Newعمرو بن عثمان القرشي ← موسى بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← عمرو بن عثمان القرشي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1050
من أم قوما فليخفف فإن فيهم الكبير وإن فيهم المريض وإن فيهم الضعيف وإن فيهم ذا الحاجة وإذا صلى أ
صحيح مسلم
1051
إذا أممت قوما فأخف بهم الصلاة
سنن ابن ماجه
988
إذا أممت قوما فأخف بهم
سنن ابن ماجه
987
تجاوز في الصلاة واقدر الناس بأضعفهم فإن فيهم الكبير والصغير والسقيم والبعيد وذا الحاجة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1050 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1050
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

(أَنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي)
کے علماء نے مختلف مفہوم مراد لیے ہیں:

میں امام بن کر عجب اورتکبر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہوں۔

میں شرم وحیا اور اس کام کی ادائیگی میں کمزوری محسوس کرتا ہوں۔

میں نماز میں وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہوں،
اور اس کی تائید میں عثمان ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت سے ہوتی ہے۔
جس میں یہ آیا ہے،
میں نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شیطان میری نماز میں حرج ڈال دیتا ہے،
مجھے قرآن پڑھتے بھلا دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت سے ان کی یہ خرابی دور ہو گئی۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے نماز میں سب لوگوں کو شریک ہونا چاہیے اپنی کمزوری بیماری یا ضرورت کو جماعت سے پیچھے رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے اور امام کو بھی اپنے مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1050]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1051
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آخری وصیت اور تلقین یہ فرمائی تھی، جب لوگوں کی امامت کرو تو اس میں تخفیف کا خیال رکھنا (نماز ہلکی پڑھانا)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1051]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عَهِدَ إِلَيْهِ:
(س)
اس کو وصیت وتلقین کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1051]