پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
50. باب قدر ما يستر المصلي:
باب: نمازی سترہ کتنی مقدار کا رکھے۔
ترقیم عبدالباقی: 510 ترقیم شاملہ: -- 1137
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ، إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ، الْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ "، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الأَسْوَدِ، مِنَ الْكَلْبِ الأَحْمَرِ، مِنَ الْكَلْبِ الأَصْفَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ "،
یونس نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر (غفاری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو گی تو وہ اسے سترہ مہیا کرے گی، اور جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو گی تو گدھا، عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو قطع کریں گے۔“ میں نے کہا: اے ابوذر! سیاہ کتے کی لال کتے یا زرد کتے سے تخصیص کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1137]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اس کے لیے سترہ (آڑ) بنے گا، جب اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو، اگر اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، عورت اور سیاہ کتا، اس کی نماز (کے خشوع) کو منقطع کر دیتا ہے۔“ میں نے پوچھا: ”اے ابوذر! سیاہ کتے کی تخصیص کیوں، اگر کتا لال یا زرد ہو پھر؟“ انہوں نے کہا: ”اے میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تو نے مجھ سے کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَلْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ» ”سیاہ کتا شریر (شیطان) ہوتا ہے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 510
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1137
| يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود |
سنن ابن ماجه |
952
| يقطع الصلاة إذا لم يكن بين يدي الرجل مثل مؤخرة الرحل المرأة والحمار والكلب الأسود الكلب الأسود شيطان |
المعجم الصغير للطبراني |
331
| يقطع الصلاة الكلب الأسود والمرأة والحمار الكلب الأسود شيطان |
المعجم الصغير للطبراني |
202
| يقطع الصلاة الكلب الأسود والمرأة والحمار الكلب الأسود شيطان |
المعجم الصغير للطبراني |
248
| يقطع الصلاة الكلب الأسود والحمار والمرأة |
Sahih Muslim Hadith 1137 in Urdu
عبد الله بن الصامت الغفاري ← أبو ذر الغفاري