🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب النهي عن البصاق في المسجد في الصلاة وغيرها:
باب: مسجد میں تھوکنے کی ممانعت نماز میں ہو یا نماز کے سوا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 553 ترقیم شاملہ: -- 1233
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ، أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا، الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِي أَعْمَالِهَا، النُّخَاعَةَ، تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ، لَا تُدْفَنُ ".
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے، میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو دیکھا، اس کے برے اعمال میں بلغم کو پایا جو مسجد میں ہوتا ہے اور اسے دفن نہیں کیا جاتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1233]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو پایا اور میں نے اس کے برے اعمال میں مسجد میں کنگھار کو پایا جس کو دفن نہیں کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1233]
ترقیم فوادعبدالباقی: 553
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥أبو الأسود الدؤلي، أبو الأسود
Newأبو الأسود الدؤلي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥يحيى بن يعمر القيسي، أبو سعيد، أبو سليمان، أبو عدي
Newيحيى بن يعمر القيسي ← أبو الأسود الدؤلي
ثقة
👤←👥يحيى بن عقيل الخزاعي
Newيحيى بن عقيل الخزاعي ← يحيى بن يعمر القيسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥واصل مولى أبي عيينة
Newواصل مولى أبي عيينة ← يحيى بن عقيل الخزاعي
ثقة
👤←👥مهدي بن ميمون الأزدي، أبو يحيى
Newمهدي بن ميمون الأزدي ← واصل مولى أبي عيينة
ثقة
👤←👥عبد الله بن محمد الضبعي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو عبيد
Newعبد الله بن محمد الضبعي ← مهدي بن ميمون الأزدي
ثقة
👤←👥شيبان بن أبي شيبة الحبطي، أبو محمد
Newشيبان بن أبي شيبة الحبطي ← عبد الله بن محمد الضبعي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1233
وجدت في محاسن أعمالها الأذى يماط عن الطريق وجدت في مساوي أعمالها النخاعة تكون في المسجد لا تدفن
سنن ابن ماجه
3683
رأيت في محاسن أعمالها الأذى ينحى عن الطريق رأيت في سيئ أعمالها النخاعة في المسجد لا تدفن
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1233 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1233
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی میں امت کے اچھے اور برے عملوں کا مشادہ کروایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو اچھے اور برے عملوں سے (عَلیٰ وَجْهِ الْبَصِیْرۃ)
آگاہ فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فریضہ سرانجام دے دیا،
لیکن یہ کہنا (یہ تصریح ہے)
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
حدیث کے مفہوم ومعنی میں اپنی طرف سے اضافہ ہے اور یہ حدیث کا منشا اور مقصد نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1233]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3683
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3683]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
ہروه عمل نیکی ہے جس سے لوگوں کو فائدہ یا نقصان سے بچاؤ ہو (بشرطیکہ وہ شریعت کے کسی خاص حکم کے خلاف نہ ہو)
اور ہر وہ عمل برائی ہے جو اس کے برعکس ہو۔

(2)
کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہیں کرنا چاہیے اور کسی برائی کو معمولی سمجھ کر اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔

(3)
مسجد کی صفائی کا اہتمام زیادہ ہونا چاہیے۔

(4)
اس زمانے میں فرش کچا ہوتا تھا، اس لیے بلغم وغیرہ پر مٹی ڈال دینے سے وہ جذب ہو کر ختم ہو جاتا تھا۔
آج کل کے حالات کے مطابق پانی سے صفائی ضروری ہے۔

(5)
اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آئے تو وضو کی جگہ جا کر تھو کا جائے یا رومال میں تھوک لیا جائے، کراہت ہو تو بعد میں رومال دھولیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3683]