یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر:
باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 630 ترقیم شاملہ: -- 1429
قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الأَشْجَعِيُّ : عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا، بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
اسود بن قیس نے شقیق بن عقبہ سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اسی طرح) پڑھتے رہے (آگے فضیل بن مرزوق کی سابقہ حدیث کی مانند ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1429]
امام مسلم فرماتے ہیں: یہی روایت اشجعی نے سفیان ثوری کے واسطے سے اسود بن قیس کی شقیق بن عقبہ سے براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنائی، انہوں نے کہا، ہم ایک عرصہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے رہے، جیسا کہ فضیل بن مرزوق کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1429]
ترقیم فوادعبدالباقی: 630
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥شقيق بن عقبة العبدي شقيق بن عقبة العبدي ← البراء بن عازب الأنصاري | ثقة | |
👤←👥الأسود بن قيس العبدي، أبو قيس الأسود بن قيس العبدي ← شقيق بن عقبة العبدي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← الأسود بن قيس العبدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبيد الله بن عبيد الرحمن الأشجعي، أبو عبد الرحمن عبيد الله بن عبيد الرحمن الأشجعي ← سفيان الثوري | ثقة مأمون |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1429 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1429
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس آیت مبارکہ میں صلاۃ العصر کا لفظ بطور تفسیر تھا۔
اس لیے انھوں نے (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)
اس کو اپنے مصحف میں لکھوایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے وقت اس کو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بتایا اس لیے جب مصحف امام لکھوایا گیا۔
جس کےمطابق دوسرے مصحف تیار ہوتے تھے تو یہ لفظ نہیں لکھا گیا باقی رہا یہ مسئلہ کہ حدیث خبر واحد ہے اور قرآن مجید تواتر سے ثابت ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا قرآن ہونا جس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اسی سے اس کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے اب یہ قرآن ہے ہی نہیں کہ اس کے لیے تواتر شرط ہو اس آیت کے لیے متواتر شرط ہے جو قرآن میں موجود ہو اس لیے جنہوں نے اس کو قرآن سمجھا تھا انھوں نے اس تفسیر کو منسوخ بھی سمجھا اور جنہوں نے اس کو قرآن نہیں سمجھا بلکہ تفسیر سمجھا انھوں نے اپنے ذاتی مصحف میں اپنی یا دواشت کے لیے اس کو لکھا بہر حال تمام احادیث مذکورہ سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ صلوۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے اس لیے یہی صحیح اور راجح قول ہے اور اس کے علاوہ اقوال درست نہیں ہیں اگرچہ چونکہ نمازیں پانچ ہیں اس لیے ہر نماز کو درمیان میں رکھ کر اس کو درمیانی نماز کا نام دیا جا سکتا ہے اور دیا بھی گیا ہے حتی کہ عطف کو مغایرت کے لیے مان کر پانچ نمازوں کے سوا جمعہ کو بھی درمیانی نماز کا نام دیا گیا ہے اور قول کے لیے کوئی نہ کوئی سبب بیان کیا گیا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس آیت مبارکہ میں صلاۃ العصر کا لفظ بطور تفسیر تھا۔
اس لیے انھوں نے (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا)
اس کو اپنے مصحف میں لکھوایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے وقت اس کو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بتایا اس لیے جب مصحف امام لکھوایا گیا۔
جس کےمطابق دوسرے مصحف تیار ہوتے تھے تو یہ لفظ نہیں لکھا گیا باقی رہا یہ مسئلہ کہ حدیث خبر واحد ہے اور قرآن مجید تواتر سے ثابت ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا قرآن ہونا جس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اسی سے اس کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے اب یہ قرآن ہے ہی نہیں کہ اس کے لیے تواتر شرط ہو اس آیت کے لیے متواتر شرط ہے جو قرآن میں موجود ہو اس لیے جنہوں نے اس کو قرآن سمجھا تھا انھوں نے اس تفسیر کو منسوخ بھی سمجھا اور جنہوں نے اس کو قرآن نہیں سمجھا بلکہ تفسیر سمجھا انھوں نے اپنے ذاتی مصحف میں اپنی یا دواشت کے لیے اس کو لکھا بہر حال تمام احادیث مذکورہ سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ صلوۃ وسطی سے مراد عصر کی نماز ہے اس لیے یہی صحیح اور راجح قول ہے اور اس کے علاوہ اقوال درست نہیں ہیں اگرچہ چونکہ نمازیں پانچ ہیں اس لیے ہر نماز کو درمیان میں رکھ کر اس کو درمیانی نماز کا نام دیا جا سکتا ہے اور دیا بھی گیا ہے حتی کہ عطف کو مغایرت کے لیے مان کر پانچ نمازوں کے سوا جمعہ کو بھی درمیانی نماز کا نام دیا گیا ہے اور قول کے لیے کوئی نہ کوئی سبب بیان کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1429]
Sahih Muslim Hadith 1429 in Urdu
شقيق بن عقبة العبدي ← البراء بن عازب الأنصاري