یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر:
باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 631 ترقیم شاملہ: -- 1430
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ، جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ، حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَوَضَّأْنَا، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ ".
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے (بھی) نہیں پڑھی۔“ پھر ہم (وادی) بطحان میں اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1430]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریشی کافروں کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا حتیٰ کہ سورج غروب ہونے کو ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کی قسم! میں نے بھی نہیں پڑھی۔“ پھر ہم وادی بطحان میں اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1430]
ترقیم فوادعبدالباقی: 631
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
596
| صلى العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب |
صحيح مسلم |
1430
| صلى رسول الله العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب |
جامع الترمذي |
180
| صلى رسول الله العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب |
Sahih Muslim Hadith 1430 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← جابر بن عبد الله الأنصاري