Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب المشي إلى الصلاة تمحى به الخطايا وترفع به الدرجات:
باب: نماز کے لئے چل کر جانا گناہوں کو مٹانے اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 669 ترقیم شاملہ: -- 1524
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا، كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: جو شخص دن کے پہلے حصے میں یا دن کے دوسرے حصے میں مسجد کی طرف گیا اللہ تعالیٰ (ہر دفعہ آنے پر) اس کے لیے جنت میں میزبانی کا انتظام فرماتا ہے، جب بھی وہ (آئے) صبح کو آئے یا شام کو آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1524]
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان (نماز کے لیے) مسجد میں آتا جاتا ہے، اس کے ہر آنے جانے پر اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار فرماتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 669
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة متقن
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
662
من غدا إلى المسجد وراح أعد الله له نزله من الجنة كلما غدا أو راح
صحيح مسلم
1524
من غدا إلى المسجد أو راح أعد الله له في الجنة نزلا كلما غدا أو راح
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1524 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1524
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نماز کی پابندی اور اہتمام انسان کے لیے جنت میں ضیافت ودعوت کا سبب بنتا ہے اور مہمان والی تکریم و تعظیم کا سبب بنتا ہے۔
(غدًا رَوَاح)
کا معنی مطلقاً آنا جانا ہے صرف صبح و شام آنا جانا مراد نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1524]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:662
662. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جو شخص مسجد کی طرف صبح و شام بار بار آتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی تیار کرتا ہے، جب بھی وہ صبح اور شام (مسجد میں) آتا اور جاتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:662]
حدیث حاشیہ:
(1)
لغت کے اعتبار سے غَدَا کے معنی صبح کے وقت آنا اور رَاحَ کے معنی شام کے وقت آنا، ہیں لیکن عام طور پر یہ دونوں لفظ آمدورفت کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔
صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں عنوان کی عبارت(فضل من خرج)
ہے، یعنی غَدَا کےبجائے خَرَجَ کا لفظ ہے جو صبح وشام دونوں وقت آنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے راح کے معنی لوٹنا اور واپس ہونا ہیں۔
اس وضاحت کے پیش نظر مسجد میں آنے اور پھر واپس ہونے، دونوں کا ثواب ملے گا۔
(2)
چونکہ الفاظ حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی طرف جانے کا ثواب ہو کیونکہ عبادت کے لیے جانا ہے لیکن وہاں سے نکلنے اور واپس ہونے پر ثواب نہ ہو، امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان قائم کر کے تنبیہ فرمائی ہے کہ مسجد سے واپس ہونے پر بھی ثواب ہو گا، چنانچہ ایک حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے:
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے کافی دور تھا اور وہ نماز باجماعت ادا کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔
لوگوں نے اس سے کہا:
تم کوئی سواری خرید لو تاکہ تمھیں گرمی اور رات کے وقت آنے جانے میں سہولت رہے۔
اس نے جواب دیا کہ مسجد کے قریب قیام رکھنا مجھے پسند نہیں ہے۔
لوگوں نے اس بات کو برا محسوس کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی یہ بات بیان کی۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا تو اس نے عرض کیا:
میں چاہتا ہوں کہ دور سے میرا مسجد میں آنا اور مسجد سے واپس ہونا دونوں اللہ کے ہاں لکھے جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تجھے اللہ تعالیٰ نے یہ سب عطا فرمادیا ہے۔
جس اجرو ثواب کی تونے امید کی ہے، اللہ نے وہ سب عنایت فرما دیا ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاۃ، حدیث: 557) (3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عبادت کے لیے مسجد کی طرف آنا اور مسجد سے واپس لوٹ کر جانا دونوں باعث اجرو ثواب ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 662]