Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب الجمع بين الصلاتين في الحضر:
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1629
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کو جمع کیا۔ ابوزبیر کہتے ہیں میں نے (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا، آپ نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، جیسے تو نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← سعيد بن جبير الأسدي
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← أحمد بن يونس التميمي
ثقة ثبت
👤←👥عون بن سلام القرشي، أبو جعفر
Newعون بن سلام القرشي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← عون بن سلام القرشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
591
صلى مع رسول الله بالمدينة الأولى والعصر ثمان سجدات ليس بينهما شيء
سنن النسائى الصغرى
602
صلى رسول الله الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا من غير خوف ولا سفر
سنن النسائى الصغرى
603
يصلي بالمدينة يجمع بين الصلاتين بين الظهر والعصر
صحيح مسلم
1637
نجمع بين الصلاتين على عهد رسول الله
صحيح مسلم
1629
صلى رسول الله الظهر والعصر جميعا بالمدينة في غير خوف ولا سفر
صحيح مسلم
1630
جمع بين الصلاة في سفرة سافرها في غزوة تبوك فجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء
صحيح مسلم
1628
صلى رسول الله الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا في غير خوف ولا سفر
سنن أبي داود
1210
صلى رسول الله الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا في غير خوف ولا سفر
سنن ابن ماجه
1069
يجمع بين المغرب والعشاء في السفر من غير أن يعجله شيء ولا يطلبه عدو ولا يخاف شيئا
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
204
صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا فى غير خوف ولا سفر
مسندالحميدي
475
صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا جميعا وسبعا جميعا
مسندالحميدي
476
صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة من غير سفر ولا خوف ثمانيا جميعا وسبعا جميعا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1629 کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح مسلم 1629
تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری
سوال: بارش میں دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: بارش میں دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے، جیسا کہ:
◈ امام الائمہ، ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ولم يختلف علماء الحجاز ان الجمع بين الصلاتين فى المطر جائز.»
علماءِ حجاز کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بارش میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔ [صحيح ابن خزيمة 85/2]

◈ سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ تعلق کہتے ہیں کہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا:
«جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء بالمدينة، فى غير خوف، ولا مطر (وفي لفظ: ولا سفر)، قلت لابن عباس: لم فعل ذلك؟ قال: كي لا يخرج أمته .»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو بغیر کسی خوف اور بارش (ایک روایت میں بغیر کسی خوف اور سفر) کے جمع کیا۔ (سعید بن جبیر کہتے ہیں:) میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا: اس لئے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی امت پر کوئی مشقت نہ ہو۔ [صحيح مسلم: 54/705، 50]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کا بیان ہے:
«صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا جميعا، وسبعا جميعا، الظهر والعصر، والمغرب والعشاء .»
میں نے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ظہر و عصر کی آٹھ رکعات اور مغرب و عشا کی سات رکعات جمع کر کے پڑھیں۔ [صحيح البخاري: 543، 1174، صحيح مسلم: 55/705]

◈ شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرماتے ہیں:
«والجمع الذى ذكره ابن عباس لم يكن بهذا ولا بهذا، وبهذا استدل أحمد به على الجمع لهذه الأمور بطريق الأولى، فإن هذا الكلام يدل على أن الجمع لهذه الأمور أولى، وهذا من باب التنبيه بالفعل، فانه اذا جمع ليرفع الحرج الحاصل بدون الخوف والمطر والسفر، فالخرج الحاصل بهذه أولى أن يرفع، والجمع لها أولى من الجمع لغيرها.»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جس جمع کا ذکر کیا ہے، وہ نہ خوف کی وجہ سے تھی، نہ بارش کی وجہ سے۔ اسی حدیث سے امام احمد رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ خوف اور بارش میں تو بالاولیٰ جمع ہو گی. اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان امور میں نمازوں کو جمع کرنا بالاولیٰ جائز ہے۔ یہ تنبیہ بالفعل کی قبیل سے ہے . جب خوف، بارش اور سفر کے بغیر جو مشقت ہوتی ہے، اس مشقت کو ختم کرنے کے لیے دو نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے، تو ان اسباب کی مشقت کو ختم کرنا تو بالاولیٰ جائز ہو گا، لہٰذا خوف، بارش اور سفر کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا دیگر امور کی بنا پر جمع کی نسبت زیادہ جائز ہو گا۔ [مجموع الفتاوي: 76/24]

◈ محدث العصر، علامہ البانی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول «فى غير خوف ولا مطر» کی شرح میں فرماتے ہیں:
«فإنه يشعر أن الجمع للمطر كان معروفا فى عهدم صلى الله عليه وسلم، ولو لم يكن كذلك، لما كان ثمة فائدة من نفي المطر كسبب مبرر للجمع، فتامل»
یہ الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بارش کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنا معروف تھا۔ غور فرمائیے! اگر ایسا نہ ہوتا، تو بارش کو جمع کے جواز کے سبب کے طور پر ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ [ارواءالغليل: 3 40]

◈ نافع مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«كانت أمراء نا إذا كانت ليلة مطيرة، أبطأوا بالمغرب وعجلوا بالعشاء قبل أن يغيب الشفق، فكان ابن عمر يصلي معهم، لا يرى بذلك بأسا، قال عبيد الله: ورأيت القاسم، وسالما يصليان معهم، فى مثل تلك الليلة.»
جب بارش والی رات ہوتی، تو ہمارے امرا مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے اور شفق غروب ہونے سے پہلے عشا کے ساتھ جمع کر لیتے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ ہی نماز پڑھتے تھے اور اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے . عبید اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے قاسم اور سالم رحمها اللہ کو دیکھا کہ وہ دونوں ان کے ساتھ ایسی رات میں مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے . [المؤطأ للإمام مالك: 331، السننن الكبريٰ للبيهقي: 168/3، و سنده صحيح]

◈ ہشام بن عروہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«رأيت أبان بن عثمان يجمع بين الصلاتين فى الليلة المطيرة؛ المغرب والعشاء، فيصليهما معا، عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وأبو بكر بن عبدالرحمن، وأبو سلمة بن عبدالرحمن، لاينكرونه .»
میں نے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کو بارش والی رات مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کرتے دیکھا. عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اس پر کوئی اعترض نہیں کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبة: 234/2، السنن الكبريٰ للبيهقي: 168/3، 169، و سنده صحيح]

◈ عبدالرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
«رايت سعيد بن المسيب يصلي مع الائمة، حين يجمعون بين المغرب والعشاء، فى الليلة المطيرة.»
میں نے امام سعید بن مسیب کو ائمہ کے ساتھ بارش والی رات میں مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه: 234/2، و سنده حسن]

◈ ابومودود، عبدالعزیز بن ابوسلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں:
«صليت مع أبى بكر بن محمد المغرب والعشاء، فجمع بينهما فى الليلة المطيرة.»
میں نے ابوبکر بن محمد کے ساتھ مغرب و عشا کی نماز پڑھی، انہوں نے بارش والی رات میں دونوں نمازوں کو جمع کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه: 234/2، و سنده حسن]

◈ شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرماتے ہیں:
«فهذه الآثار تدل على أن الجمع للمطر من الأمر القديم، المعمول به بالمدينة زمن الصحابة والتابعين، مع أنه لم ينقل أن أحدا من الصحابة والتابعين أنكر ذلك، فعلم أنه منقول عندهم بالتوائر جواز ذلك.»
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنا قدیم معاملہ ہے، جس پر صحابہ و تابعین کرام کے عہد میں مدینہ منورہ میں بھی عمل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی ایک بھی صحابی سے اس پر اعتراض کرنا بھی منقول نہیں۔ اس ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ و تابعین سے بالتواتر اس کا جواز منقول ہے ـ [مجموع الفتاوٰي: 83/24]

◈ جناب عبدالشکور لکھنوی، فاروقی، دیوبندی لکھتے ہیں:
امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سفر میں اور بارش میں بھی دو نمازوں کا ایک وقت میں پڑھ لینا جائز ہے اور ظاہر احادیث سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے، لہٰذا اگر کسی ضرورت سے کوئی حنفی بھی ایسا کرے، تو جائز ہے۔ [علم الفقه، حصه دوم، ص: 150]
↰ یاد رہے کہ بارش کی صورت میں جمع تقدیم و تاخیر، دونوں جائز ہیں۔ تقدیم میں زیادہ آسانی ہے، نیز جمع صوری کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 238]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1629
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے اس جمع کو مطر(بارش)
پر محمول کیا ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ آگے تصریح آ رہی ہے کہ یہ کام بارش کے دن نہیں کیا۔
یعنی سفر،
خوف اور بارش تینوں میں سے کوئی ایک عذر بھی نہ تھا۔
لیکن نسائی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جمع صوری تھی کہ (أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ)
علامہ البانی نےان الفاظ کو مُدْرَجْ قرار دیا ہے۔
نیز أَخَّرَ الظُّهْرَ سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ ظہر کو عصر تک مؤخر کیا اور عصر میں جلدی کی کہ دونوں کو عصر کے اول وقت میں پڑھ لیا أَخَّرَ الظُّهْرَ کا یہ معنی کرنا کہ ظہر اپنے آخری وقت میں پڑھی اس کا کوئی قرینہ نہیں ہے۔
لیکن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما شاگرد ابوشعشاء اور اس کے شاگرد عمرو بن دینار نے بھی یہی تاویل کی ہے اور ان کے انداز اور اسلوب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو جمع صوری پر محمول کرتے تھے سفر اور حضر کا امتیاز اور فرق بھی یہی چاہتا ہے کہ حضر میں شاذ ونادر طور پر جمع صوری جائز ہے جمع حقیقی درست نہیں ہے۔
اگرچہ بعض محدثین نے کبھی کبھارکسی مقصد کے تحت حضر میں جمع حقیقی کی بھی اجازت دی ہے۔
مثلاً دونوں نمازوں کے لیے الگ الگ وضو کرنے میں وقت ہے یا کسی جگہ وعظ ونصیحت کی مجلس قائم ہے درمیان میں وقفہ کرنا درست نہیں ہے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے وعظ کے موقع پر ایسے کیا تھا اس کو عادت بنانا درست نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1629]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 204
جمع بین الصلاتین کن حالتوں میں جائز ہے
«. . . عن عبد الله بن عباس انه قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا فى غير خوف ولا سفر . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف اور سفر کے بغیر ظہر و عصر کی دونوں نمازیں اور مغرب و عشاء کی دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھیں . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 204]
تخریج الحدیث:
[وأخرجه مسلم 705، من حديث مالك به وصرح ابوزبير بالسماع عنده705/51]

تفقه
➊ طائفۂ شازہ کو چھوڑ کر علماء کا اجماع ہے کہ بغیر عذر کے حضر (اپنے رہائشی علاقے میں) جمع بین الصلاتین جائز نہیں ہے۔ دیکھئے: [التمهيد 210/12]
➋ جمع بین الصلاتین درج ذیل حالتوں میں جائز ہے:
سفر، حج، بارش، کفار سے جنگ میں، حالت خوف، شرعی عذر مثلاً رفع حرج شدید اور مرض شدید وغیرہ۔
➌ سفر میں جمع بین الصلاتین کے لئے دیکھئے: [الموطأ حديث 108، 199، ومسلم: 2281، 703] اور [ماهنامه الحديث حضرو: 52ص17]
➍حج میں ظہر و عصر کی دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھنے کے لئے دیکھئے: [مسلم 1218، ترقيم دار السلام: 2950، وصحيح بخاري 1662]
➎ بارش میں بیع بین الصلاتین جائز ہے۔ جب امراء (حکمران) بارش میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرتے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ یہ نمازیں جمع کر لیتے تھے۔ [الموطا 145/1 ح 329 وسندہ صحیح]
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 109]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 591
مقیم کے جمع بین الصلاتین کرنے کے وقت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے بصرہ میں پہلی نماز ۱؎ (ظہر) اور عصر ایک ساتھ پڑھی، ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، اور مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھی ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، انہوں نے ایسا کسی مشغولیت کی بناء پر کیا، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ انہوں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی نماز (ظہر) اور عصر آٹھ رکعتیں پڑھی، ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز فاصل نہیں تھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 591]
591 ۔ اردو حاشیہ: اس روایت کا مفہوم بھی سابقہ روایت والا ہی ہے، یعنی یہ بظاہر جمع تاخیر تھی۔ ایسا کبھی کبھار ہونا چاہیے بالخصوص جبکہ واقعی مصروفیت بھی ہو جیسا کہ آپ سے بھی ایک ہی دفعہ ثابت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 591]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 602
دوران اقامت (حضر میں) جمع بین الصلاتین کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 602]
602 ۔ اردو حاشیہ: دیکھیے سنن نسائی فوائد حدیث: 590
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 602]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:475
475- سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدأ میں مدینۂ منورہ میں آٹھ رکعات ایک ساتھ اور سات رکعات ایک ساتھ ادا کی ہیں۔ عمر و بن دینار مکی نامی راوی کہتے ہیں: میں نے (اپنے استاد) جابر بن زید سے دریافت کیا: اے ابو شعثاء! میرا خیال ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز تاخیر سے ادا کی ہوگی اور عصر کی نماز جلدی ادا کرلی ہوگی اور مغرب کی تاخیر سے ادا کی ہوگی، اور عشاء کی نماز جلدی ادا کرلی ہوگی، تو وہ بولے: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:475]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازوں کو جمع کرنے کی صورت میں صرف فرض پڑھے جائیں گے، اور ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر کے اور مغرب کو مؤخر اور عشاء کو مقدم کر کے پڑھا جائے۔ یہ حد بیث بحالت اقامت بغیر کسی عذر کے نمازوں کو جمع کرنے کے جواز پر دلیل ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بار بصرہ میں ظہر اور عصر کو جمع کیا ان دونوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا پھر انہوں نے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مد بینہ میں ظہر اور عصر کی آٹھ رکعات اکٹھی پڑھی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیان میں کچھ نہیں پڑھا تھا۔ [سنن النسائي: 591 مختصراً فى صحيح البخاري: 543]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 475]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1637
ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا، نماز پڑھو، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش رہے، اس نے پھر کہا، نماز پڑھو، وہ پھر بھی چپ رہے۔ اس نے پھر کہا، نماز، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چپ رہے۔ پھر کہنے لگے، تجھ پر حیرت ہے تو کیا ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1637]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
لَا أُمَّ لَكَ:
تیری ماں نہیں ہے یا تو اپنی ماں کو نہیں جانتا،
یہ کلمہ کسی کی تردید اور مذمت کے وقت استعمال کرتے ہیں کہ تیرا یہ کام افسوس ناک ہے۔
فوائد ومسائل:
احناف نے ایک نماز کے وقت میں دوسری نماز پڑھنے کے عدم جواز کی دلیل آیت مبارکہ:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ (نساء: 103)
کہ نماز مسلمانوں پر اوقات مقررہ میں فرض ہے پیش کرتے ہیں۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا وہی مفہوم معتبر ہے جو اس کے شارح اور مبین نے جس پر قرآن اتارا گیا ہے اور معلمِ قرآن ہے،
نے ہی بیان کیا ہے۔
نیز اس آیت مبارکہ کا تعلق عام حالات سے ہے۔
اس لیے آیت کے اس ٹکڑا سے پہلے یہ الفاظ ہیں۔
﴿فَإِذَا اطْمَأْنَنْتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ﴾ جب تمھیں اطمینان اور سکون حاصل ہو تو پھر نماز کا اہتمام کرو مزید برآں مزدلفہ اور عرفات میں دو نمازوں کا ایک نماز کے وقت میں پڑھنا تو احناف کے نزدیک بھی جائز ہے کیا وہ اس آیت کے منافی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1637]

حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن ابی داود 1210
بغیر کسی عذر کے نمازوں کو جمع کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی عذر کے بھی نمازوں کو جمع کیا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «جمع رسول الله بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر» وفي رواية «من غير خوف ولا سفر» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کو مدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کیا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ بغیر کسی خوف اور سفر کے جمع کیا۔
[مؤطا 144/1، كتاب قصر الصلاة فى السفر: باب الجمع بين الصلاتين فى الحضر والسفر، مسلم 705، أبو ا داود 1210، نسائي 602، 601، ابن خزيمة 971، أحمد 283/1]
یہاں یہ بات یاد رہے کہ نمازوں کو جمع کرنے کی دو صورتیں ہیں:
➊ ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں اس طرح ادا کرنا کہ ابھی صرف ایک نماز کا وقت ہو دوسری کا نہ ہو مثلاً عصر کو ظہر کے ساتھ اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لینا۔ یہ جمع صرف مسافر کے لیے جائز ہے۔
➋ پہلی نماز کو مؤخر کر کے آخری وقت میں اور دوسری کو جلدی کر کے پہلے وقت میں پڑھ لیتا اس طرح بظاہر دونوں نمازیں جمع بھی ہو جائیں گی اور فی الحقیقت اپنے اپنے وقتوں میں ادا ہوں گی، اس جمع کو جمع صوری کہتے ہیں اور جس روایت میں بغیر کسی عذر کے نمازوں کو جمع کرنے کا ذکر ہے اس سے یہی جمع مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «اصليت مع النبى الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا أخر الظهر وعجل العصر...... وأخر المغرب عجل العشاء» میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر و عصر کی نماز اکٹھی ادا کی اور مغرب و عشاء کی نماز اکٹھی ادا کی (وہ اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو مؤخر کر دیا اور عصر کو جلدی پڑھ لیا اور مغرب کو مؤخر کر دیا اور عشاء کو جلدی پڑھ لیا۔
[مسلم 1152، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب الجمع بين الصلاتين فى الحضر]
(شوکانیؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [نيل الأوطار 227/2]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [تحفة الأحوذى 585/1]
دوران بارش اور حالت مرض میں بعض علماء نے (مسافر کی طرح نماز) جمع کرنے کی اجازت دی ہے مثلاً امام احمدؒ، امام شافعیؒ اور امام اسحاق رحمہم اللہ اجمعین وغیرہ تا ہم امام شافعی کے مشہور قول کے مطابق مریض کے لیے نمازیں جمع کرنے کی ممانعت منقول ہے۔
[تحفة الأحوذى 587/1، فتح البارى 231/2]
(راجح) دوران بارش یا حالت مرض میں (مسافر کی طرح یعنی ایک وقت میں) نمازیں جمع کرنا درست نہیں (کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں نمازیں جمع فرماتے اور دوسرے مریض صحابہ کو بھی اس کی تلقین کرتے حالانکہ ایسا کچھ منقول نہیں) البتہ جمع صوری (اپنے اپنے وقت میں نمازیں پڑھنے) کا جواز بہر حال موجود ہے۔ [السيل الحرار 193/1]
(احناف) سفر میں بھی نماز میں جمع کرنا جائز نہیں۔ ان کی دلیل ضعیف روایت ہے جو کہ قابل حجت نہیں۔
[فيض القدير 113/6، ضعيف ترمذي 28، الضعيفة 4581، ضعيف الجامع 5546]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 317
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 317]