🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب صَلاَةِ اللَّيْلِ وَعَدَدِ رَكَعَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ وَأَنَّ الرَّكْعَةَ صَلاَةٌ صَحِيحَةٌ:
باب: نماز شب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام اللیل میں رکعتوں کی تعداد، وتر کے ایک ہونے کا بیان اور اس بات کا بیان کہ ایک رکعت صحیح نماز ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 739 ترقیم شاملہ: -- 1728
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: سَأَلْتُ الأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ عَمَّا حَدَّثَتْهُ عَائِشَةُ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتِ: " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيُحْيِ آخِرَهُ، ثُمَّ إِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ يَنَامُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ النِّدَاءِ الأَوَّلِ، قَالَتِ: وَثَبَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ، قَامَ فَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَلَا وَاللَّهِ مَا قَالَتِ، اغْتَسَلَ وَأَنَا أَعْلَمُ مَا تُرِيدُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جُنُبًا، تَوَضَّأَ وُضُوءَ الرَّجُلِ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ ".
ابوخثیمہ (زہیر بن معاویہ) نے ابواسحاق سے خبر دی، کہا: میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی۔ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصے میں سو جاتے اور آخری حصے کو زندہ کرتے (اللہ کے سامنے قیام فرماتے ہوئے جاگتے) پھر اگر اپنے گھر والوں سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سو جاتے، پھر جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ اچھل کر کھڑے ہو جاتے (راوی نے کہا:) اللہ کی قسم! عائشہ رضی اللہ عنہا نے وثب کہا، قام (کھڑے ہوتے) نہیں کہا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہاتے، اللہ کی قسم! انہوں نے اغتسل (نہاتے) نہیں کہا: ”اپنے اوپر پانی بہاتے“ میں جانتا ہوں ان کی مراد کیا تھی۔ (یعنی زیادہ مقدار میں پانی بہاتے) اور اگر آپ جنبی نہ ہوتے تو جس طرح آدمی نماز کے لیے وضو کرتا ہے، اسی طرح وضو فرماتے، پھر دو رکعتیں (سنت فجر) ادا فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1728]
ابو اسحاق کہتے ہیں: ”میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، جو انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے اور آخری حصہ میں بیدار ہو جاتے، پھر اگر بیوی سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے پھر سو جاتے، جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو (بستر سے) اچھل پڑتے، اللہ کی قسم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے «وَثَبَ» ”کودنا، اچھلنا“ کہا، «قَامَ» ”اٹھنا“ نہیں کہا، پھر اپنے اوپر پانی بہاتے، اللہ کی قسم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے غسل نہیں کہا بلکہ «أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ» ”اپنے اوپر پانی بہایا“ کہا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1728]
ترقیم فوادعبدالباقی: 739
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة مكثر
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة ثبت إمام
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← يحيى بن يحيى النيسابوري
ثقة مكثر
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن يونس التميمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن يونس التميمي ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1146
ينام أوله ويقوم آخره فيصلي ثم يرجع إلى فراشه إذا أذن المؤذن وثب فإن كان به حاجة اغتسل وإلا توضأ وخرج
صحيح مسلم
1728
ينام أول الليل ويحيي آخره إن كانت له حاجة إلى أهله قضى حاجته ثم ينام فإذا كان عند النداء الأول قالت وثب ولا والله ما قالت قام فأفاض عليه الماء وإن لم يكن جنبا توضأ وضوء الرجل للصلاة ثم صلى الركعتين
سنن النسائى الصغرى
1681
ينام أول الليل ثم يقوم إذا كان من السحر أوتر ثم أتى فراشه فإذا كان له حاجة ألم بأهله فإذا سمع الأذان وثب فإن كان جنبا أفاض عليه من الماء وإلا توضأ ثم خرج إلى الصلاة
سنن النسائى الصغرى
1641
ينام أول الليل ويحيي آخره
سنن ابن ماجه
1365
ينام أول الليل ويحيي آخره
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1728 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1728
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی رات کو جلد اٹھ کر،
رات کی نماز سے فارغ ہو کر بیوی سے تعلقات قائم کرنے کے بعد سو جاتے اور صبح کی اذان کے بعد جلدی بیدار ہو کر غسل فرما کر فجر کی سنتیں پڑھتے صبح کی سنتیں ہر صورت نماز فجر سے پہلے پڑھتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1728]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1146
1146. حضرت اسود سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز شب کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ شروع رات میں سو جاتے اور پچھلی رات اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر لوٹ آتے۔ اس کے بعد جب مؤذن اذان دیتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1146]
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ کہ نہ ساری رات سوتے ہی رہتے نہ ساری رات نماز ہی پڑھتے رہتے بلکہ درمیانی راستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور یہی مسنون ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1365
رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1365]
اردو حاشہ:
فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات تہجد پڑھنے اور آرام کرنے کے سلسلے میں کئی انداز سے عمل فرمایا ہے۔
جن میں سے ایک صورت یہ بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1365]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1146
1146. حضرت اسود سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز شب کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ شروع رات میں سو جاتے اور پچھلی رات اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر لوٹ آتے۔ اس کے بعد جب مؤذن اذان دیتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1146]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ جب سحری کا وقت ہوتا تو وتر پڑھتے، پھر اگر ضرورت ہوتی تو اپنی اہلیہ کے پاس آتے۔
(فتح الباري: 42/3)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر تعلقات زن و شوہر کی ضرورت ہوتی تو اسے نماز تہجد ادا کرنے کے بعد پورا کرتے تھے کیونکہ عبادات کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی شایان شان تھا، چنانچہ اوائل شب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بحالت جنابت سونا ثابت نہیں، البتہ اواخر شب کچھ دیر دائیں پہلو کے بل لیٹنا ثابت ہے۔
بہرحال امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب بیدار ہو کر نماز تہجد پڑھتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

Sahih Muslim Hadith 1728 in Urdu