🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
182. . باب : ما جاء في أي ساعات الليل أفضل
باب: رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَيُحْيِي آخِرَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1365]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے شروع حصے میں سوتے تھے اور آخری حصے میں عبادت کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16017، ومصباح الزجاجة: 479)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 15 (1146)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (739)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1641)، مسند احمد (6/102، 253) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اسرائیل نے اس حدیث کو ابو اسحاق سے اختلاط سے پہلے روایت کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مخضرم
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبيد الله بن موسى العبسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1146
ينام أوله ويقوم آخره فيصلي ثم يرجع إلى فراشه إذا أذن المؤذن وثب فإن كان به حاجة اغتسل وإلا توضأ وخرج
صحيح مسلم
1728
ينام أول الليل ويحيي آخره إن كانت له حاجة إلى أهله قضى حاجته ثم ينام فإذا كان عند النداء الأول قالت وثب ولا والله ما قالت قام فأفاض عليه الماء وإن لم يكن جنبا توضأ وضوء الرجل للصلاة ثم صلى الركعتين
سنن النسائى الصغرى
1681
ينام أول الليل ثم يقوم إذا كان من السحر أوتر ثم أتى فراشه فإذا كان له حاجة ألم بأهله فإذا سمع الأذان وثب فإن كان جنبا أفاض عليه من الماء وإلا توضأ ثم خرج إلى الصلاة
سنن النسائى الصغرى
1641
ينام أول الليل ويحيي آخره
سنن ابن ماجه
1365
ينام أول الليل ويحيي آخره
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1365 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1365
اردو حاشہ:
فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات تہجد پڑھنے اور آرام کرنے کے سلسلے میں کئی انداز سے عمل فرمایا ہے۔
جن میں سے ایک صورت یہ بھی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1365]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1728
ابو اسحاق کہتے ہیں، میں نے اسود بن یزید سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، جو اسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کی تھی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے اور آخری حصہ میں بیدار ہو جاتے، پھر اگر بیوی سے کوئی ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے پھر سو جاتے، جب پہلی اذان کا وقت ہوتا تو (بستر سے) اچھل پڑتے، اللہ کی قسم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وَثَبَ (کودنا، اچھلنا) کہا،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1728]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی رات کو جلد اٹھ کر،
رات کی نماز سے فارغ ہو کر بیوی سے تعلقات قائم کرنے کے بعد سو جاتے اور صبح کی اذان کے بعد جلدی بیدار ہو کر غسل فرما کر فجر کی سنتیں پڑھتے صبح کی سنتیں ہر صورت نماز فجر سے پہلے پڑھتے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1728]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1146
1146. حضرت اسود سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز شب کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ شروع رات میں سو جاتے اور پچھلی رات اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر لوٹ آتے۔ اس کے بعد جب مؤذن اذان دیتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1146]
حدیث حاشیہ:
مطلب یہ کہ نہ ساری رات سوتے ہی رہتے نہ ساری رات نماز ہی پڑھتے رہتے بلکہ درمیانی راستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور یہی مسنون ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1146
1146. حضرت اسود سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز شب کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ شروع رات میں سو جاتے اور پچھلی رات اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر لوٹ آتے۔ اس کے بعد جب مؤذن اذان دیتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، اگر ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1146]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ جب سحری کا وقت ہوتا تو وتر پڑھتے، پھر اگر ضرورت ہوتی تو اپنی اہلیہ کے پاس آتے۔
(فتح الباري: 42/3)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر تعلقات زن و شوہر کی ضرورت ہوتی تو اسے نماز تہجد ادا کرنے کے بعد پورا کرتے تھے کیونکہ عبادات کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی شایان شان تھا، چنانچہ اوائل شب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بحالت جنابت سونا ثابت نہیں، البتہ اواخر شب کچھ دیر دائیں پہلو کے بل لیٹنا ثابت ہے۔
بہرحال امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر شب بیدار ہو کر نماز تہجد پڑھتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1146]

Sunan Ibn Majah Hadith 1365 in Urdu