🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الطيب والسواك يوم الجمعة:
باب: جمعہ کے دن خوشبو لگانے اور مسواک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 848 ترقیم شاملہ: -- 1961
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّهُ ذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ "، قَالَ طَاوُسٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَيَمَسُّ طِيبًا أَوْ دُهْنًا إِنْ كَانَ عِنْدَ أَهْلِهِ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ.
روح بن عباوہ اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے جمعے کے دن غسل کرنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ طاوس نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اگر اس کے گھر والوں کے پاس موجود ہو تو وہ خوشبو تیل بھی استعمال کر سکتا ہے؟ انہوں نے (جواب میں) کہا: میں یہ بات نہیں جانتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1961]
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی روایت ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا، طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا، وہ خوشبو یا تیل استعمال کرے اگر اس کے گھر میں موجود ہو؟ انہوں نے جواب دیا، میرے علم میں نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥إبراهيم بن ميسرة الطائفي
Newإبراهيم بن ميسرة الطائفي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثبت حافظ
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← إبراهيم بن ميسرة الطائفي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن رافع القشيري
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← ابن جريج المكي
ثقة
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← روح بن عبادة القيسي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
885
الغسل يوم الجمعة أيمس طيبا أو دهنا
صحيح البخاري
884
اغتسلوا يوم الجمعة واغسلوا رءوسكم وإن لم تكونوا جنبا أصيبوا من الطيب
صحيح مسلم
1961
الغسل يوم الجمعة
سنن أبي داود
353
إذا كان هذا اليوم فاغتسلوا يمس أحدكم أفضل ما يجد من دهنه وطيبه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1961 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1961
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
غسل کا مقصد میل کچیل سے صاف ہونا ہے تاکہ لوگوں کو اس کے پسینہ سے تکلیف نہ ہو اس لیے منہ کی بدبو کےازالہ کے لیے مسواک کرنی چاہیے۔
امام اسحاق رحمۃ اللہ علیہ۔
امام داود رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کے لیے مسواک ضروری ہے۔
بلکہ امام اسحاق کے نزدیک ہر نماز کے لیے مسواک لازم ہے۔
اگر انسان عمداً مسواک نہیں کرتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔
ابن حزم کےنزدیک جمعہ کے سوا باقی نمازوں کے لیے مسواک کرنا سنت ہے اور اکثر اہل علم کے نزدیک جمعہ ہو یا غیر جمعہ نماز کے لیے مسواک کرنا سنت ہے لازم یا فرض نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1961]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 885
885. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جمعہ کے دن غسل سے متعلق بیان کیا تو راوی حدیث حضرت طاوس نے دریافت کیا کہ اس کے گھر میں تیل اور خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:885]
حدیث حاشیہ:
تیل اور خوشبو کے متعلق حضرت سلمان فارسی ؒ کی حدیث اوپر ذکر ہوئی ہے غالباً حضرت ابن عباس ؓ کو اس کا علم نہ ہوسکا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 885]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:885
885. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جمعہ کے دن غسل سے متعلق بیان کیا تو راوی حدیث حضرت طاوس نے دریافت کیا کہ اس کے گھر میں تیل اور خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:885]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے حضرت سلمان ؓ سے مروی حدیث کے بعد حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کو اس لیے بیان کیا ہے کہ جمعے کے دن غسل کے علاوہ جتنے بھی پسندیدہ کام ہیں، مثلاً:
بالوں میں تیل لگانا، خوشبو استعمال کرنا، ان کے متعلق اتنی تاکید نہیں ہے، البتہ غسل کرنے کی بہت تاکید ہے، نیز ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کو خوشبو وغیرہ کے استعمال کے متعلق کچھ تردد تھا، حالانکہ ایک روایت میں وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اگر خوشبو میسر ہو تو اسے استعمال کرے۔
شارحین نے اس کے کئی ایک جوابات دیے ہیں:
٭ ابن عباس ؓ سے مروی جس حدیث میں خوشبو کا ذکر ہے وہ روایت ضعیف ہے۔
(فتح الباري: 480/2)
٭ ممکن ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ خوشبو سے متعلق روایت کو بھول گئے ہوں۔
٭ حضرت ابن عباس ؓ کو حضرت سلمان ؓ کی حدیث کا علم نہ ہو سکا ہو۔
٭ چونکہ مردوں اور عورتوں کی خوشبو الگ الگ ہوتی ہے، اس لیے حضرت ابن عباس ؓ کو خوشبو کے متعلق شرح صدر نہ ہو سکا کہ مرد، عورتوں کی رنگین خوشبو لگا کر مسجد جائیں۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 885]