🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب الصلاة بعد الجمعة:
باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 883 ترقیم شاملہ: -- 2043
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: " فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي "، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ.
حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمر بن عطاء نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید کے پاس بھیجا۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا۔ مگر (اس روایت میں) یہ ہے کہ سائب نے کہا: جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے (سلام پھیرا کہا) امام کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2043]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسری سند سے بیان کی ہے۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ سائب نے کہا: جب سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ سَلَّمَ کے بعد امام کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيدصحابي صغير
👤←👥عمر بن عطاء المكي
Newعمر بن عطاء المكي ← السائب بن يزيد الكندي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عمر بن عطاء المكي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥هارون بن عبد الله البزاز، أبو موسى
Newهارون بن عبد الله البزاز ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2043 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2043
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز پڑھنے کے بعد فوراً بلاوقفہ اس جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔
الا یہ کہ نماز کے بعد ذکر واذکار کر لے کسی سے کوئی ضروری بات چیت کر لے یا جگہ بدل دے۔
اگرچہ بہتر یہی ہے کہ گھر جا کر پڑھے۔
علامہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اصل مقصد،
فرض اور نفل میں فصل وامتیاز کرنا ہے تاکہ یہ شبہ لاحق نہ ہو یہ ابھی فرض پڑھ رہا ہے۔

مقصورہ سے مراد وہ کمرہ ہے۔
جو قبلہ کی دیوار میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خارجی کے حملہ کے بعد اپنے تحفظ کے لیے بنوایا تھا۔
اور اس کو بند کر کے اس میں نماز پڑھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2043]