الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب الصلاة بعد الجمعة:
باب: جمعہ کے بعد نماز پڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 883 ترقیم شاملہ: -- 2043
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: " فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي "، وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ.
حجاج بن محمد نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمر بن عطاء نے بتایا کہ نافع بن جبیر نے انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید کے پاس بھیجا۔ آگے سابقہ حدیث کے مانند بیان کیا۔ مگر (اس روایت میں) یہ ہے کہ سائب نے کہا: جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے (سلام پھیرا کہا) امام کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2043]
امام صاحب نے یہی حدیث دوسری سند سے بیان کی ہے۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ سائب نے کہا: جب سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔ ”سَلَّمَ“ کے بعد امام کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 883
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2043 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2043
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز پڑھنے کے بعد فوراً بلاوقفہ اس جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔
الا یہ کہ نماز کے بعد ذکر واذکار کر لے کسی سے کوئی ضروری بات چیت کر لے یا جگہ بدل دے۔
اگرچہ بہتر یہی ہے کہ گھر جا کر پڑھے۔
علامہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اصل مقصد،
فرض اور نفل میں فصل وامتیاز کرنا ہے تاکہ یہ شبہ لاحق نہ ہو یہ ابھی فرض پڑھ رہا ہے۔
2۔
مقصورہ سے مراد وہ کمرہ ہے۔
جو قبلہ کی دیوار میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خارجی کے حملہ کے بعد اپنے تحفظ کے لیے بنوایا تھا۔
اور اس کو بند کر کے اس میں نماز پڑھتے تھے۔
فوائد ومسائل:
1۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز پڑھنے کے بعد فوراً بلاوقفہ اس جگہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔
الا یہ کہ نماز کے بعد ذکر واذکار کر لے کسی سے کوئی ضروری بات چیت کر لے یا جگہ بدل دے۔
اگرچہ بہتر یہی ہے کہ گھر جا کر پڑھے۔
علامہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اصل مقصد،
فرض اور نفل میں فصل وامتیاز کرنا ہے تاکہ یہ شبہ لاحق نہ ہو یہ ابھی فرض پڑھ رہا ہے۔
2۔
مقصورہ سے مراد وہ کمرہ ہے۔
جو قبلہ کی دیوار میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خارجی کے حملہ کے بعد اپنے تحفظ کے لیے بنوایا تھا۔
اور اس کو بند کر کے اس میں نماز پڑھتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2043]
عمر بن عطاء المكي ← السائب بن يزيد الكندي