صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب:
باب: نماز عیدین کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 885 ترقیم شاملہ: -- 2047
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رافع ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَى النِّسَاءَ، فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَاءُ صَدَقَةً، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " زَكَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ؟ " قَالَ: " لَا وَلَكِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ، تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: " أَحَقًّا عَلَى الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَاءَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَكِّرَهُنَّ؟ " قَالَ: " إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِكَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ".
ابن جریج نے کہا: ہمیں عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: میں نے ان (جابر رضی اللہ عنہما) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھائی چنانچہ آپ نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا کی پھر لوگوں کو خطاب فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ سے) فارغ ہوئے تو (چبوترے سے) اتر کر عورتوں کے پاس آئے انہیں تذکیر و نصیحت کی جبکہ آپ بلال رضی اللہ عنہ کے بازو کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء سے پوچھا فطر کے دن کا صدقہ (ڈال رہی تھیں؟) انہوں نے کہا: نہیں اس وقت (اپنا) صدقہ کر رہی تھیں (کوئی عورت چھلا ڈالتی تھی (اسی طرح یکے بعد دیگرے (ڈال رہی تھیں اور ڈال رہی تھیں))۔ میں نے عطاء سے پھر پوچھا: کیا اب بھی امام کے لیے لازم ہے کہ جب (مردوں کے خطبے سے) فارغ ہو تو عورتوں کو تلقین اور نصیحت کرے؟ انہوں نے کہا: ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم! یہ ان پر (عائد شدہ) حق ہے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2047]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور خطبہ سے پہلے نماز کی ابتدا کی پھر لو گوں کو خطاب فرمایا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوئے تو (اتر کر اونچائی سے) عورتوں کے پاس آئے انھیں تذکیر و نصیحت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سہارا لیے ہو ئے تھے یا ان کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں ابن جریج نے عطاء سے پوچھا، صدقہ فطر ڈال رہی تھیں؟ انھوں نے کہا: نہیں اس وقت نیا صدقہ کر رہی تھیں عورتیں چھلے (بڑی انگوٹھیاں) ڈال رہی تھیں اسی طرح یکے بعد دیگرے ڈال رہی تھیں۔ ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطاء سے پوچھا: کیا اب بھی امام کے لیے لازم ہے کہ (مردوں کے خطبہ سے) فارغ ہو کر انہیں تلقین اور نصیحت کرے؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ میری جان کی قسم! یہ ان کے لیے لازم ہے، انھیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے؟ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 885
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
978
| صلى فبدأ بالصلاة ثم خطب أتى النساء فذكرهن وهو يتوكأ على يد بلال بلال باسط ثوبه يلقي فيه النساء الصدقة |
صحيح البخاري |
958
| خرج يوم الفطر فبدأ بالصلاة قبل الخطبة |
صحيح البخاري |
961
| قام فبدأ بالصلاة ثم خطب الناس بعد أتى النساء فذكرهن وهو يتوكأ على يد بلال بلال باسط ثوبه يلقي فيه النساء صدقة |
صحيح مسلم |
2047
| قام يوم الفطر فصلى فبدأ بالصلاة قبل الخطبة ثم خطب الناس أتى النساء فذكرهن وهو يتوكأ على يد بلال بلال باسط ثوبه يلقين النساء صدقة |
سنن أبي داود |
1141
| قام يوم الفطر فصلى فبدأ بالصلاة قبل الخطبة ثم خطب الناس أتى النساء فذكرهن وهو يتوكأ على يد بلال بلال باسط ثوبه تلقي فيه النساء الصدقة |
سنن النسائى الصغرى |
1563
| صلى بنا رسول الله في عيد قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة |
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري