🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب:
باب: نماز عیدین کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 885 ترقیم شاملہ: -- 2048
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، فَقَالَ: " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ "، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ "، قَالَ: فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ، يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: میں عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا آپ نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے اللہ کے تقوے کا حکم دیا اس کی اطاعت پر ابھارا لوگوں کو نصیحت کی اور انہیں (دین کی بنیادی باتوں کی) یاد دہانی کرائی پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آگئے (تو) انہیں وعظ و تلقین (تذکیر) کی اور فرمایا: صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔ عورتوں کے درمیان سے ایک بھلی سیاہی مائل رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکایت بہت کرتی ہو اور اپنے رفیق زندگی کی ناشکری کرتی ہو۔ (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا اس پر وہ عورتیں اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں وہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2048]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے اذان اور تکبیر کے بغیر نماز سے ابتدا کی، پھر بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے، اللہ کی حدود کی پابندی کا حکم دیا، اس کی اطاعت پر آمادہ فرمایا اور لوگوں کو نصیحت کی اور انہیں یاد دہانی (تذکیر) کی۔ پھر چل پڑے حتیٰ کہ عورتوں کے پاس آ گئے، انہیں وعظ و تذکیر کی اور فرمایا: صدقہ کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے۔ عورتوں کے درمیان سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت کھڑی ہوئی، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم شکوہ و شکایت بہت کرتی ہو اور اپنے رفیقِ زندگی کی ناشکری کرتی ہو۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہ اپنے زیورات سے صدقہ کرنے لگیں، وہ بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈال رہی تھیں۔ ( «أَقْرِطَةٌ»، «قُرْطٌ» کی جمع ہے، بالیاں جو کانوں میں ڈالتی ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 885
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2048 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2048
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
سطة:
اگر یہ وسط سے ہو تو معنی ہو گا عورتوں کے درمیان سے۔
اسفع،
کی تانیث سفعاء ہے،
سیاہی مائل کو کہتے ہیں۔
(2)
حلي:
حلی کی جمع ہے زیورات۔
(3)
تكفرن العشير:
عشیر۔
ساتھی اور رفیق کو کہتے ہیں مراد خاوند ہے اور یہ تكثرن الشكاة کی توضیح و تفسیر ہے کہ تم خاوند کی احسان فراموش ہو،
ان کا شکوہ و شکایت ہی کرتی رہتی ہو۔
قرط اور خرص ہم معنی ہیں:
بالیاں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2048]

Sahih Muslim Hadith 2048 in Urdu