صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب ذكر النداء بصلاة الكسوف: «الصلاة جامعة»:
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 912 ترقیم شاملہ: -- 2117
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ، مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ". وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْعَلَاءِ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ "، وَقَالَ: " يُخَوِّفُ عِبَادَهُ ".
ابوعامر اشعری، عبداللہ بن براد اور محمد بن علاء نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے برید سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ تیزی سے اٹھے، آپ کو خوف لاحق ہوا کہ مبادا قیامت (آ گئی) ہو، یہاں تک کہ آپ مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ کھڑے ہوئے بہت طویل قیام، رکوع اور سجدے کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، میں نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا کہ کسی نماز میں (آپ نے) ایسا کیا ہو، پھر آپ نے فرمایا: ”یہی نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ یہ کسی کی موت یا زندگی کی بناء پر نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ ان کو بھیجتا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو (قیامت سے) خوف دلائے، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو جلد از جلد اس کے ذکر، دعا اور استغفار کی طرف لپکو۔“ ابن علاء کی روایت میں «خسفت الشمس» کے بجائے «كسفت الشمس» (سورج کو گرہن لگا) کے الفاظ ہیں (معنی ایک ہی ہے) اور انہوں نے «يخوف بها عباده» (ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کے بجائے «يخوف عباده» (اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2117]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج کو گہن لگ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوف زدہ ہو کر اس طرح اٹھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت قائم ہونے کا ڈر ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آ گئے اور آپ نے انتہائی طویل قیام، رکوع اور سجدہ کے ساتھ نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نماز میں کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ کسی کی موت و حیات کی بنا پر نہیں ہوتیں، لیکن اللہ ان کو اپنے بندوں کی تخویف (ڈرانے) کے لیے بھیجتا ہے، تو جب تم ان میں سے کوئی نشانی دیکھو تو فوراً اس کے ذکر، دعا اور استغفار کی پناہ لو۔“ ابن العلاء کی روایت میں «كُسِفَتِ الشَّمْسُ» ”سورج گہن زدہ ہوا“ یعنی «خَسَفَتْ» ”گہن لگ گیا“ کی جگہ ہے، اور انہوں نے «يُخَوِّفُ عِبَادَهُ» ”وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے“ کہا، یعنی «يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ» ”اللہ اس کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے“ کی جگہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 912
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1059
| هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته لكن يخوف الله به عباده إذا رأيتم شيئا من ذلك فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره |
صحيح مسلم |
2117
| هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته لكن الله يرسلها يخوف بها عباده إذا رأيتم منها شيئا فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره |
سنن النسائى الصغرى |
1504
| هذه الآيات التي يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته لكن الله يرسلها يخوف بها عباده إذا رأيتم منها شيئا فافزعوا إلى ذكره ودعائه واستغفاره |
Sahih Muslim Hadith 2117 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري