صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب تلقين الموتى لا إله إلا الله:
باب: قریب الموت کو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کی تلقین کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 917 ترقیم شاملہ: -- 2125
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَعُثْمَانُ ابنا أبي شيبة. ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والے لوگوں کو «لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللہ» کی تلقین کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2125]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مرنے والوں کو لاالٰه الا اللہ کہنے کی تلقین کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 917
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥يزيد بن كيسان اليشكري، أبو إسماعيل، أبو منين يزيد بن كيسان اليشكري ← سلمان مولى عزة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد سليمان بن حيان الجعفري ← يزيد بن كيسان اليشكري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمرو بن محمد الناقد، أبو عثمان عمرو بن محمد الناقد ← سليمان بن حيان الجعفري | ثقة | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← عمرو بن محمد الناقد | وله أوهام، ثقة حافظ شهير | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
675
| من قال مثل هذا يقينا دخل الجنة |
صحيح مسلم |
138
| أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله لا يلقى الله بهما عبد غير شاك فيهما إلا دخل الجنة |
صحيح مسلم |
2125
| لقنوا موتاكم لا إله إلا الله |
سنن ابن ماجه |
1444
| لقنوا موتاكم لا إله إلا الله |
المعجم الصغير للطبراني |
364
| لقنوا موتاكم لا إله إلا الله وقولوا الثبات الثبات ولا قوة إلا بالله |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2125 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2125
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
موتٰی سے مراد وہ لوگ ہیں جو مر رہے ہوں یعنی ایسے لوگ جن کی موت کے آثار نمایاں ہو چکے ہوں اب چونکہ وہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کو سدھار رہے ہیں اور آخرت میں کام آنے والی چیز توحید ہی ہے اس لیے مرنے والے کے سامنے لاالٰه الا اللہ پڑھنا چاہیے تاکہ وہ بھی اس کلمہ کو پڑھے اور اس کا خاتمہ اس کلمہ پر ہو اور وہ جنت کا حقدار ٹھہرے اور اگر وہ دوسروں کے پڑھنے سے اس طرف متوجہ نہ ہواور کلمہ اخلاص نہ پڑھے تو پھر اس کو لاالٰه الا اللہ پڑھنے کے لیے کہا جائے گا اور جب اس نے لاالٰه الا اللہ پڑھ لیا ہے تو پھر بار بار اس کو پڑھنے کے لیے نہیں کہا جائے کہیں خدانخواستہ وہ بیماری کی شدت اور گھبراہٹ کی بنا پرجھنجھلا کر یہی نہ کہہ دے میں نہیں پڑھتا۔
اعاذنا اللہ منہ۔
فوائد ومسائل:
موتٰی سے مراد وہ لوگ ہیں جو مر رہے ہوں یعنی ایسے لوگ جن کی موت کے آثار نمایاں ہو چکے ہوں اب چونکہ وہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کو سدھار رہے ہیں اور آخرت میں کام آنے والی چیز توحید ہی ہے اس لیے مرنے والے کے سامنے لاالٰه الا اللہ پڑھنا چاہیے تاکہ وہ بھی اس کلمہ کو پڑھے اور اس کا خاتمہ اس کلمہ پر ہو اور وہ جنت کا حقدار ٹھہرے اور اگر وہ دوسروں کے پڑھنے سے اس طرف متوجہ نہ ہواور کلمہ اخلاص نہ پڑھے تو پھر اس کو لاالٰه الا اللہ پڑھنے کے لیے کہا جائے گا اور جب اس نے لاالٰه الا اللہ پڑھ لیا ہے تو پھر بار بار اس کو پڑھنے کے لیے نہیں کہا جائے کہیں خدانخواستہ وہ بیماری کی شدت اور گھبراہٹ کی بنا پرجھنجھلا کر یہی نہ کہہ دے میں نہیں پڑھتا۔
اعاذنا اللہ منہ۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2125]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 675
اذان کا جواب دینے کے ثواب کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 675]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 675]
675 ۔ اردو حاشیہ: اس حدیث کے معنی بظاہر وہی ہے جو مؤلف رحمہ اللہ نے مراد لیے ہیں کہ جو شخص اذان کا جواب دے وہ جنت میں جائے گا۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 675]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1444
جان نکلنے کے وقت میت کو «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1444]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے مردوں کو «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1444]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث میں مرنے والے سے مراد قریب الوفات شخص ہے۔
(2)
تلقین سے عام طور پر علماء نے یہ مراد لیا ہے۔
کہ قریب الوفات شخص کے پاس (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
پڑھا جائے۔
تاکہ وہ بھی سن کر پڑھ لے۔
علامہ محمد فواد عبد الباقی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کے حاشہ میں یہی فرمایا ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الجنائز، باب تلقین الموتیٰ لا الٰہ الا اللہ)
نواب وحید الزمان خان نے سنن ابن ماجہ کے حاشہ میں اس مقام پر فرمایا مستحب ہے کہ میت یعنی جومر رہا ہو۔
اس کو نرمی سے یہ کلمہ یاد دلائیں۔
اور زیادہ اصرار نہ کریں۔
ایسا نہ ہوکہ انکار کر بیٹھے۔
البتہ علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اس سے مختلف ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ تلقین سے مراد کلمہ توحید پڑھ کر صرف سنانا ہی نہیں بلکہ اس سے کہا جائے وہ بھی پڑھے۔
اس کی دلیل میں انھوں نے یہ حدیث پیش کی ہے۔
جس کے الفاظ یہ ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کی عیادت کوتشریف لے گئے تو فرمایا ماموں جان! (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
کہیے۔
اس نے کہا میں ماموں ہوں یا چچا؟ آپ نے فرمایا بلکہ ماموں اس نے کہا تو (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
کہنا میرے لئے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (مسند احمد: 152/3)
(3)
اس حدیث سے دفن کے بعد تلقین مراد لینا درست نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کیا اور نہ کسی صحابی سے صحیح سند سے یہ عمل مروی ہے۔
لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
البتہ دفن کے بعد میت کے حق میں استقامت کی دعا کرنامسنون ہے۔ (سنن أبی داؤد، الجنائز، باب الإستغفار عند القبر للمیت فی وقت الإنصراف، حدیث: 3231)
فوائد ومسائل:
(1)
اس حدیث میں مرنے والے سے مراد قریب الوفات شخص ہے۔
(2)
تلقین سے عام طور پر علماء نے یہ مراد لیا ہے۔
کہ قریب الوفات شخص کے پاس (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
پڑھا جائے۔
تاکہ وہ بھی سن کر پڑھ لے۔
علامہ محمد فواد عبد الباقی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کے حاشہ میں یہی فرمایا ہے۔
دیکھئے: (صحیح مسلم، الجنائز، باب تلقین الموتیٰ لا الٰہ الا اللہ)
نواب وحید الزمان خان نے سنن ابن ماجہ کے حاشہ میں اس مقام پر فرمایا مستحب ہے کہ میت یعنی جومر رہا ہو۔
اس کو نرمی سے یہ کلمہ یاد دلائیں۔
اور زیادہ اصرار نہ کریں۔
ایسا نہ ہوکہ انکار کر بیٹھے۔
البتہ علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اس سے مختلف ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ تلقین سے مراد کلمہ توحید پڑھ کر صرف سنانا ہی نہیں بلکہ اس سے کہا جائے وہ بھی پڑھے۔
اس کی دلیل میں انھوں نے یہ حدیث پیش کی ہے۔
جس کے الفاظ یہ ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کی عیادت کوتشریف لے گئے تو فرمایا ماموں جان! (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
کہیے۔
اس نے کہا میں ماموں ہوں یا چچا؟ آپ نے فرمایا بلکہ ماموں اس نے کہا تو (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)
کہنا میرے لئے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (مسند احمد: 152/3)
(3)
اس حدیث سے دفن کے بعد تلقین مراد لینا درست نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کیا اور نہ کسی صحابی سے صحیح سند سے یہ عمل مروی ہے۔
لہٰذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
البتہ دفن کے بعد میت کے حق میں استقامت کی دعا کرنامسنون ہے۔ (سنن أبی داؤد، الجنائز، باب الإستغفار عند القبر للمیت فی وقت الإنصراف، حدیث: 3231)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1444]
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي