صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 927 ترقیم شاملہ: -- 2148
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لَمَّا طُعِنَ عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ أَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ "، وَعَوَّلَ عَلَيْهِ صُهَيْبٌ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان پر واویلا کیا، انہوں نے کہا: ”اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر واویلا کیا جاتا ہے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟“ اور (اسی طرح) صہیب رضی اللہ عنہ نے بھی واویلا کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”صہیب! کیا تمہیں علم نہیں: ’جس پر واویلا کیا جائے اس کو عذاب دیا جاتا ہے؟‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2148]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیے گئے تو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ان پر بآواز بلند رونے لگیں تو انہوں نے کہا: ”اے حفصہ! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جس پر بآواز بلند رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟“ اور ان پر حضرت صہیب رضی اللہ عنہ بآواز بلند رونے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے صہیب! کیا تمہیں علم نہیں، جس پر بآواز بلند رویا جائے اسے عذاب دیا جاتا ہے؟“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 927
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2148 in Urdu
أنس بن مالك الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي